تاریخ کو درست ہونے دیں- سہیل سانگی

مضمون شئیر کریں:

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو عدالتی فیصلے آئے ہیں جن پر ملک میں بحث کی جارہی ہے۔ ایک فیصلہ سابق آرمی چیف کی سزا اور دوسرا موجودہ آرمی چیف کی توسیع سے متعلق ہے ۔ زیادہ بحث سابق آرمی چیف سے متعلق فیصلے پر ہو رہی ہے۔ سابق آرمی چیف کی سزا پر افواجِ پاکستان کے ترجمان کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف کو آئین شکنی کی پاداش میںسزائے موت سنائی ہے۔ حکومت انہیں سزا سے بچانے کے جتن کر رہی ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس سزا کو پسند کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے کہ طویل عرصے تک آمریت کے سیاہ سایے میں رہنے والے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی آمر کو سزا ملی ہے۔آمریت جس کی وجہ سے عوام کو معاشی، سیاسی، سماجی اور آزادی سے کئی متعلق مصائب کا سامنا کرنا پڑا ، جس کی وجہ آدھا ملک ہم سے الگ ہو گیا۔اب امید ہو چلی ہے کہ آئندہ ملک میں جمہوریت ڈٰ ی ریل نہیں ہوگی۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں جاتے کہ جسٹس حمودالرحمٰن کمیشن نے کیا رپورٹ دی تھی کی کہ جنرل یحییٰ خان، جنرل عبدالحمید، جنرل ایم ایم پیرزادہ، جنرل گل حسن، میجر جنرل عمر، جنرل مٹھا کے لئے کہا تھا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان سے غیر قانونی طور پر اقتدار غصب کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

پاکستان کی تاریخ میں پانچ مرتبہ آئین توڑنے کا ’’ناپسندیدہ‘‘ عمل ہوا، جو سنگین غداری کے دائرے میں آتا ہے۔ جنرل مشرف دو مرتبہ اس عمل کے مرتکب ہوئے۔ عجیب بات ہے کہ ملک کا آئین نہ خود کبھی اپنا تحفظ کر سکا نہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کا۔ آئین شکن آمروں کو سزا دینے کے برعکس آمر ہر مرتبہ اپنا آئینی تحفظ حاصل کرتے رہے۔

مزید پڑھیں:  سب سے بڑافیصلہ- جاوید چوہدری

جنرل ضیاء نے 1977میں آئین توڑا، لیکن ان پر سنگین غداری کا مقدمہ نہیں چل سکا۔ کیونکہ 1985کی قومی اسمبلی سے انہوں نے اس آئین شکنی کو آٹھویں ترمیم کے ذریعہ تحفظ حاصل کرلیا۔ مزید یہ کہ ضیاٗ الحق کی موت کے بعدبینظیر بھٹو کو شرائط پر حکومت بنانے دی گئی تھی۔ چونکہ ضیاء پر مقدمہ نہ چل سکا، لہٰذا جنرل پرویز مشرف نے بھی1999میں آئین توڑا۔ اُنہوں نے 2002کی اسمبلی سے 17ویں ترمیم کے ذریعہ پناہ حاصل کر لی ۔مشرف نے 2007میں آئین کو معطل کیا جس سے وفاداری کا حلف انہوں نے اُٹھایا تھا۔ لیکن 2008کی اسمبلی نے اُنہیں تحفظ نہیں دیا۔ 2009میں سپریم کورٹ نے اُنہیں غاصب قرار دے کر اُن پر آئین سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔

آئین کی دفعہ کے مطابق ’’کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا کسی اور غیرآئینی طریقے سے آئین منسوخ کرے یا اُسے معطل کرے یا اُسے منسوخ کرنے کی سازش کرے تو سنگین غداری کا مجرم ہوگا‘‘۔مشرف نے نومبر 2007 کو آئین معطل کیا۔ اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ اور اسی الزام پر ان کو عدالت نے سزا سنائی ہے ۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ پرویز مشرف کا یہ اقدام اپنے عہدے کی مدت میں خود توسیع کرنے کے بعد کا ہے۔ حال ہی سپریم کورٹ توسیع کے معاملہ پر سوالات اٹھا چکی ہے۔

پاکستان میں غداری کے سرٹیفکیٹ ایک طویل عرصے سے تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ لیکن یہ سب سیاسی الزامات تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت نے کسی کو آئین سے غداری کا مجرم ٹھہرایا ہے۔ یہ ایک اعلیٰ عدالت کا فیصلہ ہے، جس کے باقی فیصلے بھی تسلیم کئے جاتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:  مومن کی فراست ہو تو کافی ہےاشارہ- اوریا مقبول جان

ملک کے عوام آئین کا احترام اور بالادستی چاہتے ہیں، جس کا اظہار متعدد مواقع پر مختلف طریقوں سے کر چکے ہیں۔ اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہئے کہ پرویز مشرف 12 سال قبل اس کی ملازمت سے ریٹائر ہو چکے۔ اب ان کی حیثیت عام شہری کی سی ہے اور وہ اپنی پینشن بھی سویلین اکائونٹ سے لیتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے ایک سویلین کی طرح ایک سیاسی جماعت بھی بنا رکھی ہے۔ اس کو ایک سویلین کی طرح ہی لینا چاہئے۔ انہیں بطور پاکستان کے عام شہری کے وہ تمام حقوق حاصل ہیں وہ سزا کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل میں جاسکتے ہیں۔

جہاں تک حکومت کا معاملہ ہے اپوزیشن کے زمانے میں عمران خان مشرف کے ٹرائل کا مطالبہ کرتے رہے ۔لیکن اب ان کی حکومت کھل کر مشرف کی حمایت کر رہی ہے۔ مشرف کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے پر بڑا اعتراض یہ ہے کہ اُن کا ساتھ دینے والوں کو سزا کیوں نہیں ملی؟ حکومت چاہے تو کچھ شریک ملزمان پر مقدمہ بنا سکتی ہے۔ اگرچہ اس اعتراض میں بھی کوئی زیادہ وزن نہیں کہ مشرف کو دفاع کا موقعہ نہیں دیا گیا۔ تاہم یہ معاملہ عدالت میں اپیل میں اٹھایا جاسکتا ہے، اور وہیں اٹھانا چاہئے۔ اس کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ مشرف کے وکلا اس فیصلے پر اپیل دائر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اپیل کے بعد بھی اگر فیصلہ برقرار رہتا ہے تو سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا صدرِ مملکت کا اختیار ہے۔ بہتر ہے کہ عدالتی اور قانونی طریقہ اختیار کریں جو باوقار طریقہ ہے۔اس فیصلے کو الجھانے سے مزید الجھاوے پیدا ہونگے جو سلجھائے نہیں سلجھیں گے۔

مزید پڑھیں:  16دسمبر تا 16 دسمبر- سلیم صافی

وقت اور تاریخ فیصلوں کو درست کرتی رہتی ہے۔ امید ہو چلی ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا رخ صحیح سمت میں جارہا ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد ہو یا نہ ہو، اس کی ایک علامتی حیثیت ضرور ہے کہ آئین کو کوئی بھی طالع آزما توڑ نہیں سکتا۔ اگر توڑے گا تو کبھی نہ کبھی اس کی باری ضرور آئے گی۔


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں