16دسمبر تا 16 دسمبر- سلیم صافی

مضمون شئیر کریں:

16دسمبر 2014 کو عمران خان کے دھرنوں کے پلان بی کے سلسلے میں لاہور میں مال روڈ پر جلسہ تھا اور ہم اس کی کوریج کیلئے لاہور میں تھے۔ یہ وہ بدنام زمانہ جلسہ تھا جس میں جیو نیوز کی اس وقت کی اینکر ثنا مرزا کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔

تمام ٹی وی کیمروں کا رخ حسب روایت اس جلسے کی طرف تھا کہ اتنے میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر طالبان کے حملے کی اطلاع ملی۔ میں فورأ پشاور کے لئے روانہ ہوا۔ رات تقریبا ٔدو بجے پشاور پہنچا ۔ اپنی صحافتی زندگی میں بہت دلخراش مناظر دیکھے لیکن اس منظر کو کبھی نہیں بھلا سکتا جب میں آرمی پبلک اسکول کی عمارت میں داخل ہورہا تھا۔

معصوم بچوں کے خون سے سرخ درودیوار آج بھی آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ میری بدقسمتی دیکھ لیجئے کہ میں آرمی پبلک اسکول کے اندر ہی تھا کہ جب افغانستان کے نمبر سے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ خلیفہ عمر منصور عرف نرے کی کال آئی.

یہ مجھے ان کی دوسری کال تھی۔ پہلی کال ان کی اس وقت آئی جب میں لاہور سے پشاور آرہا تھا ۔ تب انہوں نے صرف یہ بات کی تھی کہ حملہ ان کے بندوں نے کیا ہے لیکن تب چونکہ تفصیلات سامنے آئی تھیں اور نہ میں نے خود منظر دیکھا تھا اس لئے ان سے کوئی خاص بحث نہیں کی لیکن اب کی بار جب انہوں نے مزید تفصیلات دینے اور حملے میں حصہ لینے والے اپنے ساتھیوں کے نام بتانے کے لئے فون کیا تو میں بے قابو تھا اور ان پر برس پڑا کہ آخر کیوں؟۔ آخر ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا؟

جواب میں انہوں نے اپنے وہ روایتی بے بنیاد دلائل دینے شروع کئے لیکن اس دن میرے اندر کا صحافی بھی مر چکا تھا اور ان کی ایک ایک بات زہر لگ رہی تھی اس لئے فون بند کیا۔ کچھ دیر بعد اس وقت کے جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کی کال آئی۔

مزید پڑھیں:  ماہِ دسمبر اور قائداعظمؒ کی یاد- ڈاکٹر صفدر محمود

احسان اللہ احسان ، جماعت الاحرار کے قیام سے قبل تحریک طالبان کے ترجمان تھے اور ماضی میں اسی طرح کے درجنوں دلخراش واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے اور دھمکیاں دینے کے لئے فون کرچکے تھے۔ چنانچہ بوجھل دل کے ساتھ ان سے بات اس خوف کے ساتھ کرنے لگا کہ وہ کسی دوسری قیامت کی خبر نہ دے دیں لیکن خلاف توقع اس روز انہوں نے افغان طالبان کی طرح آرمی پبلک اسکول کے واقعے کی مذمت کی۔

بہ ہر حال ایک قیامت تھی جو گزر گئی لیکن لاکھوں دل زخمی کرکے اور ایک سو سے زائد گھروں کو اجھاڑ کر۔ سو سے زائد ان معصوم بچوں کے معصوم خون نے پورے پاکستان کو رلا دیا ۔اس معصوم خون نے میاں نواز شریف کو اس ایشو کی طرف متوجہ اورجنرل راحیل شریف کی ہدایت پر عمران خان کو ان کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور کیا ۔ نتیجتا نیشنل ایکشن پلان بنایا اورشمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز کیا گیا ۔

شمالی وزیرستان آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ۔ ہزاروں قبائلی اور سینکڑوں سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے اور شمالی وزیرستان سے طالبان کے مضبوط ٹھکانے ختم ہوئے لیکن افسوس کہ ہم نے سانحہ اے پی ایس سے وہ سبق لیا جو لینا چاہئےتھا اور نہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا۔

سانحہ اے پی ایس اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہنے والے خون کا تقاضایہ تھا کہ ہم ہمیشہ کے لئے ان پالیسیوں کو دفن کرتے جن کی وجہ سے طالبان جیسی تحریکیں جنم لیتی اور اے پی ایس جیسی سانحات وقوع پذیر ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ ان پالیسیوں کو آج بھی ہم نے پوری طرح دفن نہیں کیا ہے ۔ اس معصوم خون کا تقاضا تھا کہ ہم اپنی فرسودہ افغان پالیسی کو یکسربدل لیتے لیکن افسوس کہ کچھ تغیرکے باوجود ہماری پالیسی یکسر نہیں بدلی ۔

مزید پڑھیں:  یہ کون لوگ ہیں؟ جاوید چوہدری

اس کا تقاضا تھا کہ ملک میں حقیقی معنوں میں سول ملٹری (صرف حکومت اور ملٹری نہیں) مکمل طور پر ایک پیج پر آتے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔بلکہ قومی سلامتی کمیٹی کے جس اجلاس میں سول ملٹری قیادت نے مل کر نیشنل ایکشن پلان کے ایک اہم حصے پر عمل درآمد کے لئے منصوبہ بندی کی تو اسے ڈان لیکس کا ڈرامہ رچا کر سیاسی قیادت کے گلے کا طوق بنا دیا گیا۔آج پانچ سال گزرنے کے باوجود نیشنل ایکشن پلان کی سوائے چند شقوں کے باقی تمام شقیں عمل درآمد کی منتظر ہیں لیکن حکمران طبقات دیگر ڈراموں میں لگے ہیں۔

ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے ، سینکڑوں فوجی شہید ہوئے اورحقیقت یہ ہے کہ سانحہ اے پی ایس کے تمام ذمہ داران یا تو افغانستان میں مارے گئے (ماسٹر مائند خلیفہ عمر منصور عرف نرے افغانستان میں مارے گئے) اور باقیوں کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ہوئیں لیکن چونکہ آزادانہ عدالتی تحقیقات ہوئیں اور نہ تفصیلات شہدا کے والدین کے ساتھ شیئر ہوئیں اس لئے آج بھی ورثا انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے عجیب و غریب کرب کا شکار ہیں ۔

جب سچ سامنے نہ ہو تو پھر جھوٹ اور افواہوں کو موقع ملتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج الطاف حسین سے لے کر پختون قوم پرستوں تک آرمی پبلک اسکول کے شہدا کے والدین کو غلط طور پر یہ باور کرارہے ہیں کہ ان کے بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان ہے حالانکہ اس وقت احسان اللہ احسان کی تنظیم جماعت الاحرار اور تحریک طالبان ایک دوسرے سے جدا ہوچکے تھے ۔

آج بھی اگر کوئی 17 دسمبر 2014 کے اخبارات کی فائلیں ملاحظہ کرنے کی زحمت گوارا کرلے تو وہاں اسے تحریک طالبان کے خلیفہ منصور کی ذمہ داری اور جماعت الاحرار کے احسان اللہ احسان کی مذمت کی خبریں دیکھنے کو مل جائیں گی۔ مدعا ہرگز یہ نہیں کہ احسان اللہ احسان معصوم ہے ۔

مزید پڑھیں:  موت کی سوانح- منصور آفاق

انہوں نے ترجمان کی حیثیت سے اسی طرح کی درجنوں واقعات اور سینکڑوں انسانوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ ملالہ یوسفزئی پر حملے کے وقت وہ ترجمان تھے اور مجھے بھی متعدد مرتبہ قتل کی دھمکیاں احسان اللہ احسان دے چکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اے پی ایس کے واقعہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔

احسان اللہ احسان کی مثال سے میں فقط یہ واضح کرنا چاہ رہا تھا کہ اس سانحہ سے متعلق کتنے مفروضے گھڑے جارہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان مفروضوں، افواہوں اور غلط فہمیوں کو موقع کیوں مل رہا ہے؟ اس لئے کہ ریاست پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لئے آزادانہ جوڈیشل انکوائری کرانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

اس سال تو حد یہ کردی گئی کہ سانحہ اے پی ایس کی برسی کے موقع پر نہ امیرالمومنین عمران خان نے ورثا کے پاس جانے کی زحمت گوارا کی اور نہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے۔ ایک 16دسمبر کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے بنائے گئے حمودالرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کو آج اڑتالیس سال بعد بھی ہم سامنے لانے کی جرات نہیں کرسکتے جبکہ دوسرے سولہ دسمبر کو پانچ سال گزرنے کے بعد بھی ہم آزادانہ انکوائری نہیں کرسکیں لیکن پھر بھی اس خوش فہمی کے شکار ہیں کہ ہم مزید سانحات سے بچ جائیں گے۔

جب ہم ذمہ داروں کا تعین ہی نہیں کریں گے اور حقائق سے آنکھیں چرائیں گے تو پھر سانحات کا سلسلہ کیوں کر ختم ہوگا؟


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں