وکلا دوستوں کے نام- نجم ولی خان

مضمون شئیر کریں:

پیارے وکیل دوستو! میں وہی ہوں جس نے ہمیشہ بغیر کسی لالچ اور بغیر کسی خوف کے آپ کے اہم ترین مسائل پر برس ہا برس الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پراپنی استطاعت کے مطابق آواز بلند کی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ فیروزوالہ والے واقعے میں جب ہر کوئی آپ کی مخالفت کر رہا تھا اور پولیس متعدد شہریوں کا ماورائے عدالت قتل کرنے کے بعد سوشل میڈیا پرہمدردی کے پھول جمع کر رہی تھی تو میں نے تحقیق کے بعد آپ کے موقف کو پوری طاقت کے ساتھ نیوزنائیٹ میں بھی درست قرار دیا تھااور آپ نے اسی کالم’ شہریاراں‘ کو ہزاروں مرتبہ شئیربھی کیا تھا۔ میں جب پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آپ کو روکتے ہوئے اپنے لئے’ لفافہ صحافی‘ ہونے کے نعرے ہی نہیں بلکہ گالیاں بھی سن رہا تھا، آپ لوگوں کی طرف سے دھکے کھا رہا تھا تو دوسری طرف میں شکرگزار ہوں کہ بہت سارے کالے کوٹ والے دوست مجھے تحفظ بھی دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ کیا مجھے محض آپ کو خوش کرنے کے لئے اپنے سوالوں سے دستبردار ہوجانا چاہئے تو مجھے جواب ملا کہ پھر اس کے بعد میں اپنے رب کو کیا جواب دوں گا جس نے مجھے یہ ذمہ داری دی ہے؟

میں جانتا ہوں کہ میرے بہت سارے وکیل دوست بہت غصے میں ہیں مگر میں ان بہت ساروں کو بھی جانتا ہوں جو اس سارے واقعے پر نادم اور پریشان ہیں کہ اس منگل کی دوپہر یقینی طور پر وکلا سیاست کی تاریخ کا سیاہ باب لکھا گیا ہے۔ میں نے اس سے پہلے ایک طنزیہ کالم میں لکھا تھا کہ جب جتھوں کی طاقت کے ذریعے ہی فیصلے ہونے ہیں تو پھر میرے دونوں پڑھے لکھے طبقات میدان لگا لیں، کشتوں کے پشتے لگائیں اور جو بچ جائیں باقیوں کو اپنا غلام بنا لیں مگر یہ میدان دل کے مریضوں کا ہسپتال نہیں ہونا چاہئے تھا جس کے دروازے اس وقت وہاں روزانہ آنے والے ہزاروں مریضوں پر بند ہیں اور ان مریضوں میں خود وکیلوں کے ماں، باپ، بہن، بھائی اور بچے بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ کو علم ہے کہ میں آپ کی سیاست کو بہت قریب سے دیکھتا ہوں، اس کے رموز جانتا ہوں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ آپ کی ڈاکٹروں کے ساتھ لڑائی کے دو مرحلوں میں پہلا مرحلہ انڈی پینڈنٹ گروپ نے جیتا تھا جبکہ پروفیشنل گروپ پیچھے رہ گیا تھا اور اب جب دوبارہ میدان لگایا گیا ہے تو پی آئی سی کے گیٹ پر وکلا کی قیادت کرنے والوں میں لاہور بار کے صدر عاصم چیمہ اور صدارتی امیدوار رانا انتظار نمایاں نظر آ رہے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ لاہور بار کے الیکشن گیارہ جنوری کو ہو رہے ہیں اور آپ کے امیدوار یہ سمجھتے ہیں کہ جو جتنا تیل چھڑکے گا، آگ لگائے گا وہ اس راکھ سے اتنے ہی زیادہ ووٹ بنا لے گا۔

مزید پڑھیں:  مچھلی کا سر گل چکا ہے- جاوید چوہدری

کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ قیادت کی تعریف واضح کر لی جائے۔ لیڈر کبھی تباہی پھیرنے والے کو نہیں کہتے، مورخ کے ہاتھوں پوری قوم اور برادری کے چہرے پر کالک ملوانے والے کو نہیں کہتے۔ اپنے ہی فوجیوں کو مروانے اور پھنسوانے والے کو تاریخ جنرل نیازی کے نام سے یاد رکھتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس مشکل وقت میں بہت ساروں کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہائی ہے مگر اچھے وقت کی خامی اور برے وقت کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ یہ دونوں ہی گزر جاتے ہیں۔ جب یہ وقت گزر جائے گا تو قانون دانوں کے ہاتھوں انسانیت کے قتل کی شہ سرخی ایک نہ مٹنے والی کالک بن جائے گی۔ کیا اس امر کی مذمت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ دوا لیتے ہوئے وقت جھگڑے کے فریق وکیلوں پر تشدد نہیں ہونا چاہئے تھا مگر وہ مسئلہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کی طرف سے باقاعدہ معافی مانگنے کے بعد ختم ہو چکا تھا، افسوس، پھر ایک ڈاکٹر کی غیر سنجیدہ تقریرکو بنیاد بنا لیا گیا اور آپ لوگوں کے جتھے پی آئی سی کی طرف روانہ ہو گئے۔ کیا میں یہ سمجھوں کہ ہمارے وکیلوں میں نہ حس مزاح باقی رہ گئی ہے اور نہ ہی طنز کرنے کی خوبی سے لیس ہیں۔ وہ ایک ویڈیو تھی اور اس کے جواب میں آپ بھی ویڈیوز بنا سکتے تھے۔ ٹک ٹاک پر ہمارے بہت سارے وکیل اپنی صلاحیتوں کااظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ پانی کا گلاس پیجئے اور سوچئیے کہ آپ نے اپنے ناک پر بھنبھناتی مکھی کو ایک ہتھوڑے سے مارنے کی کوشش کی، وہ مکھی تو قابو نہیں آئی مگر اس ہتھوڑے نے آپ کا چہرہ لہولہان کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:  تاریخ کی عدالت! عاصمہ شیرازی

میں نہ ڈاکٹر ہوں اور نہ ہی وکیل بلکہ ایک تیسرا فریق ہوں اور اگر آپ مجھے لفافہ صحافی سمجھتے ہیں تو ضرور سمجھئے کہ بدھ کی رات میں واحد صحافی تھا جو آپ کی بار کے صدر ،ایک اگلے صدارتی امیدوار اور دیگر وکلا کا یک طرفہ موقف اپنے پروگرام میں پیش کر رہا تھا، میں واحد صحافی تھا جو پی آئی سی کی ایمرجنسی میں داخل ہونے والی ایمبولینسوں کے لئے آپ میں سے کچھ سمجھ دار وکلا کو راستہ بناتے ہوئے دکھا رہا تھا اور انہیں ہسپتال کا کمپاونڈ خالی کرنے کی کوششوں پرسراہ رہا تھا۔ مجھے آپ سے نہ تو کوئی لالچ ہے اور نہ ہی خوف۔ آپ میرے ساتھ زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں کہ کسی موقعے پر کسی کچہری وغیرہ میں مجھے گھیر لیں اور جان سے مار دیں مگر میرے رب کی مرضی کے بغیر آپ کا ہاتھ تو کیا ایک انگلی بھی نہیں ہل سکتی،وہ سب سے بہتر تدبیریں کرنے والا ہے۔ مجھے آپ سے کہنا ہے کہ اس پورے مسئلے پر آپ کی قیادت جوش اور جنون دونوں آزمائشوں میں ناکام ثابت ہوئی ہے،۔ آپ کے عہدیدار آپ کی رہ نمائی کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ انہیں رہنما کہنا ہی اس لفظ سے زیادتی ہے کیونکہ وہ تو ہجوم کے پیچھے تھے، جس طرف آپ کے جذباتی دوستوں کے گروہ جا رہے وہ انہیں فالو کر رہے تھے اور میں فالو کرنے والوں کو لیڈر نہیں مانتا۔ انتخابات کی آمد نے جلتی پر تیل چھڑکا ہے۔ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے ساتھ رویہ بھی کسی طور قابل تعریف اور قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا کہ صحافیوں کے علاوہ وکلا واحد برادری ہیں جنہیں منطق اور دلیل کی فوج کہا جا سکتا ہے۔ اس فوج کے ہاتھ میں آئین کی کتاب اور قلم ہونا چاہیے ڈنڈے اور پستول نہیں۔ مان لیجئے کہ آپ کو اسی وقتی جذباتیت کا شکار کیا گیا ہے جس لمحاتی جذباتیت کا شکار ہو کر لوگ قتل کر تے ہیں یا قتل ہوجاتے ہیں اور پھر آپ کے پاس آ کے روتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے دل کے مریضوں کے ہسپتال کو فتح کر لیا ہے، وہاں سے ڈاکٹروں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے، اب وہ کسی مفتوحہ علاقے کی طرح سنسان اور ویران ہے تو آپ سو فیصد غلط سوچ رہے ہیں۔ احترا م کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس جنگ میں آپ کی قیادت نے آپ کو ہر محاذ پر بری طرح پسپا کر دیا ہے۔ آپ کے ووٹوں کی حرص میں چند افراد کی لڑائی کو کالے اورسفید کوٹ کی لڑائی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں:  قلت اور کثرت کا فائن آرٹ- وسعت اللہ خان

مجھے علم ہے کہ آپ میں سے بہت سارے معاف کر دینے والے کوبزدل ہی نہیں بلکہ بے غیرت بھی سمجھتے ہوں گے مگر میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ معاف کرنے کے لئے زیادہ بڑے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے خاص طور پر جب دوسرا فریق معافی مانگ چکا ہو۔ میں آپ کو دنیا کے سب سے عقل مند اور باخبر شخص کے بارے میں بتاتا ہوں کہ اس دانائی کے مینار نے جب دشمن کو زیراور شرمندہ کر لیا تو پھر اس وحشی ترین عمل کرنے والی عورت کو بھی معاف کر دیا جس نے ان کے پیارے چچا کو جنگ میں قتل کروا کے ان کا کلیجہ چبا لیا تھا ۔ کیا آپ نے کائنات کے اس دانا ترین شخص کے نام ، کردار اور تعلیمات بارے اپنے بزرگوں سمیت کسی شریف آدمی سے کچھ سنا ہے؟


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں