بلڈپریشر ایک خاموش قاتل ہے ۔ نجم ولی خان

مضمون شئیر کریں:

کیا انتہا پسند صرف وہ ہیں جو مذہب کو دہشت گردی کے لئے استعمال کرتے رہے، اللہ اکبر کے نعرے لگاتے اور کسی نہ کسی مجمعے میں آ کر پھٹ جاتے رہے ہیں۔ میری نظر میں وہ اکیلے انتہا پسند نہیں ہیں بلکہ وہ بھی انتہا پسند ہیں جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب اورمشرق کی اقدار کی نفی کرتے ہیں۔ ہر معاملے میں مغرب کو رول ماڈل سمجھتے ہیں یا وہ جو لال، لال کے نعرے لگاتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں کچھ عاقبت نااندیشوں اور کم عقلوں کی طرف سے عورتوں پر تشدد کا ردعمل دیتے ہوئے ایک مرد کے گلے میں پٹا ڈالتے ہیں اور اسے کتے کی طرح گھسیٹتے ہیں۔

آپ انتہا پسندی کو اپنی غذائی عادات سے بھی جوڑ سکتے ہیں، میں ماہر غذائیت نہیں مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ہم جو بھی غذا کھاتے ہیں وہ ہمارے جسم ، ذہن اور نفسیات سب کو یکساں متاثر کرتی ہے ۔ جب بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے تو پھر غصہ بھی بہت آتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ایشیائی مرچوں کے علاوہ بھی گرم مصالحے بہت زیادہ کھاتے ہیں اورنتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موقع بے موقع بہت زیادہ گرم ہوجاتے ہیں۔ ہمارے حکیموں نے تو نوے فیصد امراض کو جگر اورمعدے کی گرمی کے ساتھ جوڑ رکھا ہے ۔ میں نے یورپی ممالک کے کھانے دیکھے ہیں عجب پھیکے اور بے ذائقہ سے ہوتے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ وہی کھانے جسم اور ذہن کے لئے بہتر ہیں۔ اس وقت موسم سرما ہے اور میرے ایک دوست کے مطابق ملک میں کافی ٹھنڈی سردی پڑ رہی ہے لہٰذا ہم سب اپنے کھانوں میں ڈرائی فروٹس کے علاوہ ڈیپ فرائی اشیا بھی شامل کر رہے ہیں جو سب اپنی تاثیر میں گرم ہوتی ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ڈرائی فروٹ کو صرف تصویروں میں ہی دیکھا جا سکتا ہے خریدا نہیں جا سکتا۔ چند برس پہلے جو چلغوزے ڈیڑھ دوہزار روپے کلو مل جاتے تھے وہ اب آٹھ سے نو ہزار روپے کلو ہیں، سب سے سستے ڈرائی فروٹ مونگ پھلی کو ہی دیکھ لیں وہ اس وقت سو روپے پاﺅ سے کم نہیں ملتا۔

بات انتہا پسندی کے بارے ہی کرنی ہے کہ ہم میں سے وہ تو انتہا پسند ہیں ہی، جو کہتے ہیں کہ مخالف سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈال دو، انہیں پھانسی پر لٹکا دو اور اگر یہ ممکن نہیں تو کسی طرح انہیں جلاوطنی پر آمادہ کر لو تاکہ کوئی راستے میں نہ رہے مگر مجھے اعتراف کرنا ہے کہ ہمارے بہت سارے آئین اور جمہوریت پسند بھی انتہا پسند ہیں۔ وہ بہت ساری جگہوں پراپنے مخالفین کے لئے اس سے بھی سخت روئیے اور سزائیں تجویز کرتے ہیں جو آمر اور ان کے حواری جمہوریت پسندوں کو دیتے رہے ہیں اور یوں توازن خراب ہوجاتا ہے ۔ ہمارے آئین اورجمہوریت پسند عمومی طور پراپنے آپ کومظلوم سمجھتے ہیں اور میں اکثر دیکھتاہوں کہ مظلوم کا انتقام ظالم کے ظلم سے بھی زیادہ خوفناک ہوجاتا ہے ۔ ہمیں جہاں غریب اورمظلوم کی آہ اور بددُعا سے ڈرنا چاہئے وہاں ان کی بدمعاشی سے بھی پناہ مانگنی چاہئے۔ قرآن کہتا ہے کہ ناک کے بدلے ناک اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہی لی جا سکتی ہے مگر بہتر اورافضل وہ ہیں جو معاف کر دیتے ہیں۔ میں یہاں ان لوگوں کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں جو نرمی اورمعافی کو جرم اورظلم کے تسلسل کی ضمانت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ معاشرے میں امن کے لئے قانون کے عین مطابق سزاﺅں کا بلا تخصیص دیا جانا از حد ضروری ہے ۔

مزید پڑھیں:  لال بتی - حامد میر

ہماری خصوصی عدالت کے تین رکنی بنچ کی طرف سے سابق آمر پرویزمشرف کو دی گئی سزا میں ہمارے ایک معزز جج صاحب کی طرف سے کچھ زیادتی ہوگئی ہے۔ تین رکنی بنچ کے سربراہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس وقار احمد سیٹھ تھے، بنچ میں لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس نذر اکبر بھی شامل تھے۔ ابتدائی فیصلے میں سامنے آ گیا تھا کہ مسٹر جسٹس وقار احمد سیٹھ اور مسٹر جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے جو پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ تھا مگر گذشتہ روز جاری ہونے والے 167 صفحات کے تفصیلی فیصلے میں شامل پیراگراف نمبر 66 نے نئی بحث شرو ع کروا دی ہے ۔ یہ پیراگراف مسٹر جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے میں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر پرویز مشرف سزا سے پہلے وفات پا جاتے ہیں (کیونکہ وہ اس وقت دوبئی کے ایک ہسپتال میں شدید بیماری کے عالم میں زیرعلاج ہیں) توا ن کی ڈیڈ باڈی کو گھسیٹ کر لایا جائے اوراسے تین دن تک اسی ڈی چوک میں لٹکایا جائے جہاں عمران خان دھرنا دیتے رہے ہیں۔ مسٹر جسٹس شاہد کریم نے بھی پرویزمشرف کو سزائے موت دینے کا ہی فیصلہ کیا ہے مگر انہوں نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے اس پیراگراف سے واضح اور کھلا اختلاف کیا ہے ۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہمارے آئین اور قانون ہی نہیں بلکہ مذہب میں بھی نعشوں کا مثلہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے، ایام جاہلیت کے اس رواج کی اسلام نے سختی سے مخالفت کی ہے ۔

مزید پڑھیں:  جناب وزیراعظم اور تنہائی، عاصمہ شیرازی

مجھے لگتا ہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے آمریت کی روک تھام کے لئے دئیے گئے اس فیصلے نے جمہوریت پسندوں کو فی الوقت بیک فُٹ پر کر دیا ہے ، میں اس وقت ان تمام وفاقی وزرا کی پریس کانفرنسیں دیکھ رہا ہوں جو بنیادی طور پر پرویزمشرف کو سزادینے کے حق میں ہی نہیں ہیں۔ ان تمام کے پاس ایک ہتھیار آ گیا ہے جس کے ذریعے وہ اس آئینی و قانونی فیصلے کو تباہ وہ برباد کر سکتے ہیں۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج کے بعد آنے والے ہر دن میں پرویز مشرف کا آئین اور عدلیہ کو قتل کرنے کا جرم ہلکا ہوتا جائے گا اور فیصلے کے یہ الفاظ پوری صورتحال پر بھاری پڑتے چلے جائیں گے۔ ان الفاظ نے حکومتی زعما کو موقع فراہم کیا ہے وہ اس پورے فیصلے کو غیر آئینی اورغیر اخلاقی قرار دے دیں۔ ہو سکتا ہے کہ وقار احمد سیٹھ ان الفاظ سے جمہوریت پسندوں کے ہیرو بن جائیں مگر یہی وہ الفاظ ہیں جن کی بنیاد پر حکومت جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشنل کونسل میں جانے کا عندیہ دے رہی ہے ۔ فیصلے کا یہ حصہ کسی عمارت کے وہ نقش و نگار ہیں جو اس کے پورے ڈھانچے پر حاوی ہوتے اور اسے ایک بھوت بنگلہ بناتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ میری یہ خواہش ہرگز غیر آئینی اور غیر جمہوری نہیں ہے کہ جسٹس وقار احمد شیخ وہیں رک جاتے جہاں آئین اور قانون میں درج الفاظ ختم ہو رہے تھے۔

مزید پڑھیں:  بسلسلہ قائد اعظم ۔ ہم اور ہماری منافقت- صفدر محمود

ہمارے سامنے برطانیہ کی مثال رکھی جاتی ہے جہاں ایک فوجی جرنیل اولیور کرامویل نے مارشل لا لگایا تھا ۔ 1658 میں جب اس فوجی اور سیاسی رہنما کی طبی موت واقع ہوئی تو عوام نے ویسٹ منسٹر کیتھیڈرل میں دفن اولیور کرامویل کی نعش کو باہر نکال لیا، اس کا سر قلم کر دیا اور پھر ایک کھمبے پر بھی لٹکا دیا ، بعد ازاں اس سر کو ایک گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ نہ جانے کون لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم برطانویوں کی طرح اتنے ہی جمہوریت سے محبت کرنے والے ہیں اور یوں بھی اگر جمہوریت سے محبت کرنے والے بھی ہوں تو ہمارے پاس ایک لکھا ہوا آئین موجود ہے اور اگر ہم اپنے آئین کی بالادستی چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے تمام فیصلے اس کی حدود کے مطابق ہی کرنے چاہئیں۔ آئین کی حدود سے باہر نکلنا، چاہے یہ آئین اور جمہوریت کی محبت میں ہی کیوں نہ ہو، کسی طور بھی افورڈ نہیں کیا جا سکتا۔

میں نہیں جانتا کہ برطانویوں نے یہ انتہائی اقدام کیوں کیا حالانکہ وہ ہماری طرح تیز مرچیں اور گرم مصالحے بھی نہیں کھاتے۔ شائد اس لئے کہ وہ جمہوریت کی محبت میں پاگل ہیں اور محبت میں پاگل ہونے کے بعد آپ کچھ بھی توقع کر سکتے ہیں مگر ہم تو ایسی کسی محبت کا شکار نہیں ہیں۔ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں اپنے کھانوں میں مرچ مصالحوں کا استعمال کم کر دینا چاہیے۔ ہمارے پاس پیسے بھی ہوں تو ہمیں فرائی کی ہوئی ٹراﺅٹ فش، بٹیرے ، کاجُواور چلغوزے ایک خاص حد سے زیادہ نہیں کھانے چاہئیں کہ اس سے بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے اور مریض کو علم بھی نہیں ہوپاتا کہ اس کے اندر غصہ اور انتہا پسندی کیوں غالب آ رہی ہے ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بلڈ پریشر خاموش قاتل ہے یہ جب وار کرتا ہے تو جان تک لے لیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کی بیماری اور انتہا پسندی سے محفوظ رکھیں۔ آمین


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں