ایسی جمہوریت کا ہم اچار بھی نہ ڈالیں- محمد بلال غوری

مضمون شئیر کریں:

امریکی مزاح نگار مارک ٹوئن نے نجانے کس تناظر میں کہہ دیا کہ بچوں کے ڈائپرز کی طرح سیاستدان بھی جلدی تبدیل کر لینا چاہئیں اور یہ بیوقوف برطانوی اس بات پر ایمان لے آئے۔ پانچ سال میں تیسری بار عام انتخابات، بھلا یہ بھی کوئی جمہوریت ہے۔ ہمارے ہاں تو مڈ ٹرم الیکشن کا نام لینے سے جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اپوزیشن کا کیا ہے اس کا تو کام ہی احتجاج کرنا ہے۔ تھریسامے کہہ دیتیں کہ مڈٹرم الیکشن کی بات کرنے والے ملکی سلامتی، بقا اور استحکام کے دشمن ہیں۔ ان کے ناپاک ارادے کبھی پورے نہیں ہوں گے، حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے ،اسمبلیاں مدت پوری کریں گی۔ اگر کوئی اپوزیشن لیڈر بہت ’’پھنے خاں‘‘ بننے کی کوشش کرتا تو اس کی گاڑی سے ہیروئن برآمد کرکے جیل بھجوا دیا جاتا لیکن یہ بیوقوف کیا جانیں سیاست کس چڑیا کا نام ہے۔ حماقتوں کے اس سلسلے کی بنیاد تو ڈیوڈ کیمرون نے رکھی، بھلا کیا ضرورت تھی یورپی یونین سے انخلا کے معاملے پر ریفرنڈم کروانے کی۔ ریفرنڈم تو تب کروایا جاتا ہے جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکل رہا ہو یعنی انتخابات کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کئے جا سکتے ہوں اور پھر وہ ریفرنڈم ہی کیا جس میں 99فیصد وو ٹ اپنے حق میں نہ نکلیں۔ جمہوریت کے فریب میں آکر عوام کی رائے جاننے کی کوشش میں نہ صرف اپنا سیاسی مستقبل تاریک کیا بلکہ آنے والے حکومتوں کے گلے میں بھی ایسی ہڈی پھنسا دی جو نہ تو اُگلی جا سکتی ہے اور نہ ہی نگلی جا سکتی ہے۔ بورس جانسن نے حالیہ کامیابی کے بعد جنوری میں بریگزٹ کا عمل مکمل کرنے کا وعدہ کیا ہے مگر یہ ڈور اتنی آسانی سے سلجھنے والی نہیں۔

مزید پڑھیں:  سپیکر قومی اسمبلی کے نام- سہیل وڑائچ

برطانیہ کے حالیہ انتخابات میںشمالی آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے انتخابی نتائج بورس جانسن کے گلے کی پھانس بن سکتے ہیں۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی جس نے 2017میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران 35نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، اب وہ اسکاٹ لینڈ کی 50میں سے 48نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اوریہ وہی پارٹی ہے جو اسکاٹ لینڈ کی آزادی کی حامی ہے ۔اسکاٹش نیشنل پارٹی کے مطالبے پر ہی ڈیوڈ کیمرون نے 2014میں ریفرنڈم کروایا تھا جس میں اسکاٹ لینڈ کے لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ آپ برطانیہ کیساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پھر علیحدہ ہونے کے خواہشمند ہیں 45فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ برطانیہ سے الگ ہونا چاہتے ہیں جبکہ 55فیصد عوام نے یہ اتحاد برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔ یوں اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کا معاملہ ملتوی ہوگیا مگر اب اسکاٹش نیشنل پارٹی کا خیال ہے کہ واضح مینڈیٹ ملنے کے بعد آزادی کے لئے ایک بار پھر ریفرنڈم کروایا جائے۔ پارٹی کی چیئرپرسن نکولا اسٹرجن نے نہ صرف اسکاٹ لینڈ سے دوسرے ریفرنڈم کے حق میں قرارداد منظور کروالی ہے بلکہ وزیراعظم بورس جانسن سے ایک بار پھر ریفرنڈم کروانے کا باضابطہ مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ میں نے لندن میں مقیم ایک دوست کو ٹیلیفون کرکے پوچھا کہ دوسری بار ریفرنڈم کروائے جانے کا کوئی امکان ہے؟ اس نے یہ کہہ کر مجھے حیران کردیا کہ بالکل! اگر لوگ مطالبہ کریں گے تو حکومت تو ریفرنڈم کروانا پڑے گا۔ میں نے دوسرا سوال کیا کہ اگر اس ریفرنڈم میں 51فیصد لوگوں نے کہہ دیا کہ وہ برطانیہ کیساتھ نہیں رہنا چاہتے تو پھر؟ اس نے کہا، تو پھر اسکاٹ لینڈ آزاد ہو جائے گا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ اس نے میری کیفیت بھانپتے ہوئے کہا، یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں اس سے پہلے آئرلینڈ بھی برطانیہ سے ایسے ہی الگ ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم آپ کیساتھ نہیں رہنا چاہتے اور ان کی اس خواہش کا احترام کیا گیا۔ مجھے ابھی تک اس بات پہ یقین نہیں آرہا اور سوچ رہا ہوں کہ کیسے واہیات لوگ ہیں۔ بھلا ریاستیں ایسی ہوتی ہیں؟ اگر یوں بات بات پر ریفرنڈم ہونے لگے تو ملک کے حصے بخرے ہو جائیں۔ ایک بار جو علاقہ، جو ریاست، جو صوبہ آپ کے ملک میں شامل ہوگیا، آپ کے وفاق کا حصہ بن گیا، اس کے بعد تو علیحدگی کی بات غداری اور ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ علیحدگی اور آزادی تو چھوڑیں اگر کسی علاقے کے لوگ اپنے حقوق کے نام پر ملک میں انتشار پھیلانا چاہیں تو غیر ملکی ایجنٹ کہہ کر ان کی درگت بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے طریقے ہیں ایسے لوگوں کو خاموش کرنے کے مگر برطانیہ والوں کی تو لگتا ہے مت ہی ماری گئی ہے۔

مزید پڑھیں:  اس سزا پر عملدرآمد نہیں ہوگا- حامد میر

اب لگے ہاتھوں شمالی آئر لینڈ کی کہانی بھی سن لیں۔ 1949میں آئر لینڈ برطانیہ سے الگ ہو اتو شمالی آئرلینڈ والوں نے تاج برطانیہ کیساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ اب وہاں سے بھی علیحدگی کی آوازیں اُٹھ رہی ہیں اور یورپی یونین سے انخلا کے معاملے نے ان آوازوں کو تقویت دے دی ہے۔ برطانوی دارالعوام میں شمالی آئر لینڈ کی 18نشستیں ہیں۔ انتخابات سے پہلے تک ان 18میں 10نشستیں ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے پاس تھیں جو بریگزٹ کی حامی تھی مگر شمالی آئر لینڈ میں رائے عامہ یورپی یونین سے انخلا کے شدید خلاف ہے DUPکو بریگزٹ کی حمایت مہنگی پڑی اور حالیہ انتخابات میں وہ صرف7نشستیں جیت سکی ہے باقی 11نشستیں ان جماعتوں نے حاصل کی ہیں جو بریگزٹ کی مخالف ہیں۔ مثال کے طور پرSinn Fein Party جس نے 7نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، یہ نہ صرف بریگزٹ کی مخالف ہے بلکہ برطانیہ سے علیحدگی کی خواہاں بھی ہے۔ وہاں ایسی بھی کوئی صورت نہیں کہ قرارداد پیش ہوتو 62ارکان کھڑے ہو کر اس کی حمایت کریں مگر جب ووٹنگ ہو تو 45باقی رہ جائیں۔ لہٰذا برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوبھی گیا تو آئر لینڈ بدستور یورپ کا حصہ رہے گا، آئرلینڈ یورپ میں شامل رہے گا تو بریگزٹ بےمعنی ہو کر رہ جائے گا۔ اب آپ ہی بتائیں ایسی کمزور ریاست اور پھسپھسی مغربی جمہوریت ہمیں راس آسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ایسی جمہوریت کا تو ہم اچار بھی نہ ڈالیں۔


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں