ہم آخر کرنا کیا چاہتے ہیں؟ جاوید چوہدری

مضمون شئیر کریں:

میرے ایک دوست گوجرانوالہ رہتے ہیں‘ کاروباری اور مخلص ہیں‘ یہ چند برس قبل اپنی بیگم کے ساتھ ویزہ لگوانے اسلام آباد آئے‘یہ ٹکٹ خریدنے کے لیے بلیو ایریا میں کسی ٹریول ایجنٹ کے پاس رک گئے‘ ٹکٹ میں وقت تھا‘ چناں چہ بیگم نے کار کی چابی لی اور بیکری سے کیک لینے چلی گئی‘ وہ ڈرائیونگ کی ایکسپرٹ نہیں تھی لہٰذا وہ غلطی سے رانگ سائیڈ سے سڑک پر چڑھ گئی‘ سامنے سے لینڈ کروزر آ رہی تھی‘ ڈرائیور کی توجہ سڑک پر نہیں تھی‘ ایکسیڈنٹ ہو گیا‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا‘ دونوں گاڑیوں کی سپیڈ کم تھی لہٰذا کسی قسم کا جسمانی نقصان نہیں ہوا۔

لینڈ کروزر کے مالک نے پولیس بلا لی‘ بیگم نے گھبرا کر خاوند کو فون کر دیا‘ میرے دوست بھی بھاگتے ہوئے سڑک پر پہنچ گئے‘ ان کی گاڑی بری طرح کچلی گئی تھی‘ کیس واضح تھا‘ غلطی بھابھی کی تھی‘ لینڈ کروزر کا مالک اور پولیس دونوں نے میاں بیوی کا گھیراﺅ کر لیا‘ پولیس کا کہنا تھا آپ لوگ بھی حوالات میں بند ہوں گے اور آپ کی گاڑی بھی‘ میاں بیوی نے منت سماجت کی مگر پولیس اور مدعی نہ مانا‘ میرے دوست کے کزن اس وقت سیکرٹری داخلہ تھے‘ دوست نے مجبوراً کزن کو فون کر دیا‘ کزن نے آئی جی کو فون کھڑکا دیا اور آئی جی نے فوراً موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو کال کر دی‘اس کے بعد کیا ہوا یہ آپ میرے دوست کی زبانی سنیے ”پولیس ہم دونوں میاں بیوی پر چڑھی ہوئی تھی‘ سب انسپکٹر میری بیوی کو بار بار کہتا تھا‘ بی بی کیا آپ اندھی تھی‘کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا تھا‘ آپ ون وے کی خلاف ورزی کر رہی ہیں‘اگر آپ جیسے پڑھے لکھے لوگ ایسے جرم کریںگے تو ہم ان پڑھوں سے کیا توقع رکھیں گے وغیرہ وغیرہ لیکن پھر اچانک فون آیا‘ سب انسپکٹر نے فون سنا‘ ایڑیاں بجائیں‘ اوکے سر کہا‘ فون بند کیا اورسیدھا مدعی کے سامنے کھڑا ہو گیا‘ وہ دیر تک لینڈ کروزر کے مالک کو گھورتا رہا اور پھر بولا‘ یہ بی بی گوجرانوالہ سے آئی تھی‘ یہ اسلام آباد کی سڑکوں اور ٹریفک کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔

تم تو اس شہر کے رہنے والے ہو‘ روز گاڑی چلاتے ہو‘ کیا تم اندھے تھے‘ تمہیں نظر نہیں آ رہا تھا‘ گاڑی غلطی سے ون وے پر چڑھ گئی ہے اور تم نے دائیں دیکھا اور نہ بائیں اور ان کی گاڑی ٹھوک دی‘ تمہارا جرم ناقابل معافی ہے‘ وہ اس کے بعد اپنے ماتحتوں کی طرف مڑا اور زور سے بولا ‘بند کرو اس کو اور اس کی گاڑی کو اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولا‘ خواجہ صاحب آپ بے فکر ہو کر جائیں‘ ہم اس سے نبٹ لیں گے اور میری ہنسی نکل گئی“۔

مزید پڑھیں:  سفارتی بلنڈرز- سلیم صافی

میں بھی یہ واقعہ سن کر ہنس پڑا‘ مجھے یقین ہے آپ بھی اس وقت ہنس رہے ہوں گے لیکن ہنسی اور مذاق کے باوجود یہ واقعہ ایک ننگی حقیقت ہے اور یہ حقیقت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے ہم کسی معاشرے نہیں بلکہ جنگل میں زندہ ہیں اور جنگل کا ایک ہی اصول ہوتا ہے اور وہ اصول ہے طاقت‘ آپ اگر طاقتور ہیں تو پھر ملک کا ہر قانون‘ ہر ادارہ آپ کے تابع ہے‘ آپ کچھ بھی کر لیں آپ کو عام معافی مل جائے گی لیکن آپ اگر کم زور ہیں تو پھر آپ کتنے ہی راہ راست پر کیوں نہ ہوں‘ آپ خواہ کتنے ہی اچھے‘ پڑھے لکھے اور مہذب کیوں نہ ہوں آپ بہرحال کسی نہ کسی ہاتھی کے پاﺅں تلے روندے جائیں گے۔

پھر قانون ہو‘ انصاف ہو‘ عزت نفس ہو یا پھر احساس ہو آپ ہر جگہ مایوس اور بے توقیر رہیں گے‘ آپ ہر جگہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹیں گے‘ ہم روز ملک کے کسی نہ کسی کونے میں طاقت اور طاقتوروں کے عملی مظاہرے دیکھتے ہیں ‘آپ کو سانحہ ساہیوال یاد ہوگا‘ پوری دنیا نے دیکھا کس طرح بچوں کے سامنے پورے خاندان کو گولیوں سے اڑا دیا گیا‘ وزیراعظم اور صدر تک دہل گئے لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ مارنے والے بے گناہ بھی ”ثابت“ ہو گئے اور یہ اس وقت بھی اپنے دفتروں میں طاقت کو انجوائے کر رہے ہیں جب کہ بے گناہ اور معصوم مٹی میں مل کر مٹی بن گئے اور والدین کی لاشیں دیکھنے والے بچے سینے میں دکھ پال کر زندگی گزاریں گے۔

کیا اس واقعے کے بعد بھی اس جنگل کے جنگل ہونے میں کوئی کسر باقی ہے؟ آپ وکلاءکے پی آئی سی پر حملے کو بھی لے لیجیے‘ اس حملے کے دوران دل کا ہسپتال ٹوٹ گیا‘ تین مریضوں کی جان چلی گئی‘ پورا ملک دکھ میں ڈوب گیا لیکن آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ہسپتال پر حملہ کرنے والے وکلاءبہت جلد اپنے چیمبرز میں بیٹھے ہوں گے جب کہ مرنے والوں کی ہڈیاں قبروں میں گل سڑ جائیں گی‘ آپ اسی طرح جنرل پرویز مشرف کی سزا کو بھی لے لیجیے۔

سپریم کورٹ نے 2009ءمیں جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم جاری کیا تھا‘ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی عقل مند تھے‘ یہ اپنی اوقات جانتے تھے چناں چہ یہ فائل کو دراز میں رکھ کر بھول گئے‘ میاں نواز شریف آئے اور یہ ہیوی مینڈیٹ اور ووٹ کی عزت جیسی غلط فہمیوں کا شکار ہوگئے‘ فائل کھولی‘ سپریم کورٹ سے سپیشل بینچ بنوایا اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف کارروائی شروع کر دی‘ میاں نواز شریف جنرل پرویز مشرف کو سیاست دان اور سابق صدر سمجھ بیٹھے تھے۔

مزید پڑھیں:  ماہِ دسمبر اور قائداعظمؒ کی یاد- ڈاکٹر صفدر محمود

یہ اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے کہ لال مسجد اور نواب اکبر بگٹی جیسی غلطیوں کی وجہ سے جنرل مشرف فوج میں پاپولر نہیں رہے اور اب ان کے ساتھی بھی انہیں ناپسند کرتے ہیں لیکن فائل کھلنے کی دیر تھی‘ میاں نواز شریف کی غلط فہمی دور ہو گئی‘ اس کے بعد کیا کیا ہوا‘ یہ اب تاریخ ہے‘ ہم اگر آج خوابوں اور غلط فہمیوں کی دنیا سے نکل کر چند لمحوں کے لیے حقائق میں آ کر دیکھیں تو جنرل پرویز مشرف کا کیس بھی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہو گا۔

ملک میں اس وقت تین بڑی سیاسی جماعتیں ہیں‘ پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف‘ آپ چند لمحوں کے لیے اپنی یادداشت کی ٹیپ ری وائینڈ کریں‘ آپ اپنے کانوں سے عمران خان کو ”جنرل پرویز مشرف ہائی ٹریژن کا مجرم ہے“کہتے سنیں گے‘ آپ کو عمران خان ہر جگہ یہ کہتے نظر آئیں گے ”میں اگر اقتدار میں آیا تو میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلاﺅں گا“ پاکستان تحریک انصاف کا پارٹی موقف بھی یہی تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی جنرل پرویز مشرف کو محترمہ بے نظیر بھٹو کا قاتل بھی سمجھتی تھی‘ آپ پارٹی قیادت کی بارہ سال کی تقریریں نکال کر دیکھ لیں‘ یہ لوگ آپ کو ہر جگہ جنرل مشرف کا نام لیتے دکھائی دیں گے اور پیچھے رہ گئی ن لیگ تو یہ جنرل پرویز مشرف کا مقدمہ لے کر عدالت گئی تھی‘ میاں نواز شریف نے اس مقدمے کے لیے بہت بھاری قیمت بھی ادا کی تھی لیکن تینوں پارٹیوں کی شبانہ روز محنت اوردعاﺅں کے بعد جب یہ مقدمہ 17 دسمبر کو منطقی نتیجے تک پہنچا تو کیا ہوا؟ یہ تینوں پارٹیاں 17 دسمبر کی سہ پہر خوش تھیں۔

ن لیگ اسے اپنی کام یابی سمجھ رہی تھی‘ پاکستان پیپلز پارٹی عدلیہ کو داد دے رہی تھی اور پاکستان تحریک انصاف شادیانے بجا رہی تھی‘ وزراءایک دوسرے کو مبارک باد پیش کر رہے تھے مگر پھر شام سوا چھ بجے اچانک ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی طرف سے فیصلے پر ردعمل سامنے آگیا اور چند منٹوں میں صورت حال بدل گئی‘ پاکستان پیپلز پارٹی‘ ن لیگ اور پاکستان تحریک انصاف تینوں پارٹیاں میڈیا اور سوشل میڈیا سے غائب ہو گئیں‘ حکومت نے بھی اپنے ترجمانوں کو فیصلے پر تبصرے سے روک دیا۔

ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے چپ کا روزہ رکھ لیا اور وکلاءنے تفصیلی فیصلہ آنے تک گفتگو سے انکار کر دیا‘ پارٹیاں ٹیلی ویژن شوزتک سے غائب ہو گئیں‘ تفصیلی فیصلے کے دن بھی یہی ہوا‘ پورے ملک کا فوکس پیرا گراف 66پر آ گیا‘ آپ پچھلے چار دن کی کارروائی اور بحث بھی دیکھ لیں‘ ملک کا کوئی شخص‘ کوئی ادارہ فیصلہ ڈسکس نہیں کر رہا‘ بحث کا صرف ایک ہی محور ہے اور وہ ہے پیرا گراف66‘ آپ خوف کا عالم ملاحظہ کیجیے‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز تک فیصلے پر خاموش ہیں‘ کیا اس کے بعد بھی کوئی غلط فہمی رہ جاتی ہے؟ جی نہیں!

مزید پڑھیں:  جو اس ماحول میں سچ بولتا ہے، لاپتا ہے- حامد میر

ہمیں اب فکری مغالطوں سے نکل آنا چاہیے‘ ہمیں اب حقائق کو حقائق مان لینا چاہیے اور حقائق یہ کہتے ہیں عمران خان اپنا پورا زور لگانے کے باوجود میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف اور آصف علی زرداری کو قید میں نہیں رکھ سکے‘ میاں برادران لندن میں بیٹھے ہیں اور آصف علی زرداری کے لیے ائیر ایمبولینس بک کرائی جا رہی ہے‘ حکومت پندرہ دن سے دعویٰ کر رہی ہے ہم مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے جب کہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے مریم نواز بھی لندن ضرور جائیں گی اور یہ اس وقت تک وہاں رہیں گی جب تک یہ خاموش رہیں گی۔

مولانا فضل الرحمن تک محتاط ہیں‘ یہ بھی الیکشن میں دھاندلی کے ذمہ داروں کا نام نہیں لیتے‘ یہ بھی انہیں ”منے کا ابا“ کہتے ہیں‘ ن لیگ کے اپنے ایم این اے اور ایم پی اے حقائق کو ”محکمہ زراعت“ کا نام دیتے ہیں‘احسن اقبال بچے تھے‘ یہ حقائق سے آنکھیں چرا رہے تھے لہٰذا یہ بھی آج شاہد خاقان عباسی بن چکے ہیں‘ عمران خان بھی غلط فہمی کا شکار ہیں‘ ان کو یہ حقیقتیں نظر نہیں آ رہیں‘ یہ جتنی جلد یہ حقیقتیں جان لیں گے ان کے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا ورنہ دوسری صورت میں ہواﺅں کا رخ بدلتے دیر نہیں لگے گی بس چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ ہونے کی دیر ہے اور محمودوایاز دونوں برابر ہوجائیں گے۔

عمران خان شایدیہ ساری حقیقتیں مان لین لیکن ان کے باوجود ایک حقیقت اور بھی ہے‘ ہم بدقسمتی سے اس حقیقت کو فراموش کربیٹھے ہیں اور وہ حقیقت ہے معیشت‘ ہمیں جلد یا بدیر ماننا ہوگا ریاستیں طاقت سے نہیں چلتیں‘ معیشت سے چلتی ہیں اور معیشت خوف میں نہیں پنپتی‘ اس کے لیے قانون کی زمین‘ انصاف کی ہوا اور بے خوفی کی روشنی چاہیے ہوتی ہے اور ہم ہر روز اپنے حصے کا سورج‘ اپنے حصے کی ہوا اور اپنے پاﺅں کی مٹی برباد کرتے چلے جا رہے ہیں‘ ہم دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں‘ہمارا سفر پاتال کی طرف جاری ہے‘ ہم روز اس کی سپیڈ بھی بڑھا دیتے ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آتی ہم آخر کرنا کیا چاہتے ہیں؟


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں