2029 کا پاکستان؟ حامدمیر

مضمون شئیر کریں:

گزرتے سال کے آخری دنوں میں کچھ ایسے نوجوانوں سے ملاقات ہوئی جن کی آنکھوں میں موجود عزم اور حوصلے سے یہ یقین ملا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔

عامر متین نے ایک نوجوان سماجی کارکن سے ملوایا جو ہمارے ایک مشترکہ دوست کی بہو ہیں۔ برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اپنے وسائل سے پشاور کے اسٹریٹ چلڈرن کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہی ہیں تاکہ سڑکوں پر گھومنے والے معصوم بچوں کو بھکاری اور مجرم بننے سے بچایا جا سکے۔

قوم کی اس بیٹی کو اسٹریٹ چلڈرن کیلئے کام کرنے کا خیال اس وقت آیا جب اس نے یہ خبریں سنیں کہ کچھ درندہ صفت لوگ ان بچوں کو اغوا کرکے جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

ایک نوجوان وکیل سے ملاقات ہوئی اسکے والد ملک کے سینئر قانون دان ہیں۔ بیٹا امریکہ سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آیا ہے۔

والد کا خیال ہے کہ بیٹے کو امریکہ میں پریکٹس کرنی چاہئے لیکن بیٹا کہتا ہے کہ نہیں مجھے پاکستان میں کام کرنا ہے۔

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور پر وکلا کے حملے کے بعد اسکے والد بہت دل برداشتہ تھے۔

انہوں نے بیٹے کو میرے پاس بھیجا اور کہا کہ اسے سمجھائو پاکستان میں کچھ نہیں رکھا، یہاں قانون ایک تماشہ بن چکا ہے، اسے امریکہ واپس جانے پر راضی کرو۔

بیٹا میرے پاس آیا تو میں نے اسے پوچھا کہ وہ پاکستان میں رہنے پر کیوں اصرار کر رہا ہے؟ اس نے کہا والد صاحب کہتے ہیں کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد نہیں، میڈیا آزاد نہیں اور معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے، تم یہاں اپنا وقت ضائع نہ کرو۔

وہ مجھے کہتے ہیں دیکھو ساہیوال میں پولیس نے ایک پورا خاندان قتل کر دیا اور اس خاندان کو انصاف نہیں ملا، کس طرح ایک جج ارشد ملک کو بلیک میل کرکے نواز شریف کو سزا سنائی گئی، ملک کا وزیراعظم سرِعام اخبارات کو مافیا قرار دیتا ہے، ایک ڈکٹیٹر کو سزا ملتی ہے تو نامعلوم افراد سڑکوں پر اسکے حق میں بینر لٹکا دیتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے ہمیں تم سے پیار ہے۔

مزید پڑھیں:  قلت اور کثرت کا فائن آرٹ- وسعت اللہ خان

میں والد صاحب سے کہتا ہوں کہ میرا رول ماڈل وڈیو اسکینڈل والا جج ارشد ملک نہیں بلکہ ڈکٹیٹر کو سزا سنانے والے دو جج ہیں۔

میرا رول ماڈل وہ جج ہے جس نے منشیات اسمگلنگ کیس میں رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظور کی ہے۔

نوجوان وکیل نے کہا کہ میں نے والد صاحب سے گزارش کی ہے کہ مجھے صرف پانچ سال پاکستان میں پریکٹس کرنے کی اجازت دیدیں مجھے یقین ہے کہ پانچ سال میں پاکستان بہت بدل جائے گا۔ میں نے نوجوان وکیل کو گلے لگایا اور اسکے والد کو فون کرکے کہا پلیز بیٹے کو پانچ سال پاکستان میں رہنے دو۔

کل شام ماس کمیونیکیشن کے کچھ طلبہ اپنے تھیسز کے سلسلے میں مجھے ملنے آئے۔

پوچھنے لگے پاکستان میں میڈیا کا کیا مستقبل ہے؟ میں نے جواب میں کہا کہ میڈیا کیخلاف سکستھ جنریشن وار شروع ہو چکی ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ کیا ففتھ جنریشن وار ختم ہو چکی؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ جی ففتھ ختم ہو گئی کیونکہ اسکا مقصد میڈیا کو معاشی طور پر تباہ کرنا تھا۔ اب سکستھ شروع ہے جس کا مقصد میڈیا کو غلام بنانا ہے۔

ایک نوجوان طالبعلم نے بڑے پُرعزم انداز میں مجھے کہا کہ سر میں آپ کو دس سال کے بعد ملنے آئوں گا، 2029ءکا پاکستان 2019کے پاکستان سے بہت بہتر ہو گا اور میڈیا بھی پہلے سے زیادہ مضبوط۔ یہ طلبہ رخصت ہوئے تو میں سوچنے لگا کہ پتا نہیں 2029کا پاکستان دیکھنے کی مہلت ملے گی یا نہیں لیکن نئی نسل کو بیوقوف بنانا بہت مشکل ہو چکا ہے، جو صاحبان 2019ءمیں اپنے آپ کو پاکستان کیلئے ناگزیر قرار دے رہے ہیں 2029ءمیں یہ آپ کو قومی منظر نامے سے غائب نظر آئینگے اور ممکنہ طور پر عبرت کی مثال بن چکے ہونگے۔

مزید پڑھیں:  سیکولر جمہوری منافقت کاخاتمہ- اوریا مقبول جان

اگر آپ مجھ ناچیز سے اتفاق نہیں کرتے تو ایک چھوٹا سا وعدہ کیجئے۔ گھبرائیے نہیں یہ ایسا وعدہ ہے جس پر آپ کو یوٹرن لینے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔ وعدہ یہ کیجئے کہ آپ 2019ءکو 2029ءتک یاد رکھیں گے۔

19جنوری 2019ءکو ساہیوال میں سی ٹی ڈی پنجاب کے ہاتھوں مارے جانے والے خلیل، اسکی بیوی نبیلہ اور 13سالہ بیٹی اریبہ کو مت بھولئے گا۔

اپنے بےگناہ والدین اور بڑی بہن کو اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتا دیکھنے والے معصوم بچوں عمیر، منیبہ اور حدیبہ کو بھی یاد رکھیئے گا جنہیں 2019ءمیں انصاف نہیں ملا۔

اگر یہ مظلوم بچے آپ کو نہ بھولے تو 2029ءمیں سانحہ ساہیوال جیسے واقعات بند ہو چکے ہونگے۔ وڈیو اسکینڈل والے جج ارشد ملک کو بھی یاد رکھئے گا اور ان وکیلوں کو بھی یاد رکھئے گا جنہوں نے 2019ءمیں ایک اسپتال پر حملہ کیا وہ سب صاحبانِ اختیار جنہوں نے خلیل کے خاندان کو انصاف دینے کا وعدہ کیا لیکن وعدہ پورا نہ کر سکے۔

وہ طاقتور لوگ جو جج ارشد ملک کی بددیانتی کا دفاع کرتے رہے اور قانون کی بالادستی کے وہ علمبردار جو اسپتال پر حملہ کرنے والے وکلا کی حمایت کرتے رہے ان سب کا 2029میں کوئی نام لیوا نہ ہوگا۔

وہ لوگ جو ایک ڈکٹیٹر کو سزا سنانے و الے جج کو ذہنی مریض قرار دیتے ہیں انہیں یاد رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن گزارش ہے کہ انہیں بھی یاد رکھئے گا تاکہ 2029ءکی نئی نسل کو بتایا جا سکے کہ پاکستان پر ایک ایسا زمانہ بھی آیا تھا جب قانون کی بالادستی کو سب سے زیادہ خطرہ وزیر قانون سے ہوا کرتا تھا۔

مزید پڑھیں:  یادوں کا نیلا رنگ- جاوید چوہدری

وہ لوگ جو آج کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو لاپتا کر دیتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ دس سال بعد تاریخ انہیں کس نام سے یاد کرے گی؟ جو آج حب الوطنی کے علمبردار ہیں دس سال بعد وطن دشمن کہلائیں گے اور جو آج وطن دشمن کہلاتے ہیں وہ دس سال بعد نئی نسل کے ہیرو ہونگے۔ یاد رکھئے گا! دس سال بعد کا پاکستان نہیں بلکہ ہندوستان بھی بہت مختلف ہوگا۔

وہ نریندر مودی جس نے 5 اگست 2019ءکو مقبوضہ جموں وکشمیر میں تاریخ کا طویل ترین کرفیو نافذ کیا اور جسکی حکومت نے 9دسمبر 2019ءکو ہندوستانی پارلیمینٹ میں مسلم دشمن قانون منظور کرایا وہ مودی بھی ایک ولن کے طور پر یاد کیا جائیگا۔ 2019ءکشمیریوں کو کبھی نہیں بھولے گا۔

یہ آج کی کشمیری نسل کی زندگی کا مشکل ترین سال تھا ان کشمیریوں نے اپنی ہمت اور ثابت قدمی سے بھارتی فوج کے جبرو استبداد کو شکست دی اور ان کشمیریوں کے کردار سے پورے ہندوستان کی سول سوسائٹی کو ہمت ملی جو آج مودی کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔

ان شاء اللہ 2029ءکا کشمیر ایک آزاد خطہ ہوگا اور آج جن کشمیری رہنمائوں کو بھارتی حکومت نے جیلوں میں ڈال رکھا ہے یہ 2029ءمیں پاکستانی نوجوانوں کے ہیرو کہلائیں گے۔

جو بھی جبرو استبداد سے لڑیگا وہ 2029ءمیں ہیرو ہوگا اور جو جابروں کا ساتھ دیگا وہ 2029میں زیرو ہوگا۔

اس گزرتے سال کے آخری لمحات میں اس سال کا آخری وعدہ کیجئے کہ آپ 2019ءکے اہم واقعات اور انکے کرداروں کو صرف دس سال تک، صرف دس سال تک یاد رکھیں گے تاکہ آپ کو 2029ءکی نئی نسل کو یہ سمجھانے میں آسانی ہو کہ اسے 2039ءکا پاکستان کیسے مزید بہتر بنانا ہے۔


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں