ماہِ دسمبر اور قائداعظمؒ کی یاد- ڈاکٹر صفدر محمود

مضمون شئیر کریں:

دسمبر قائداعظم کا مہینہ ہے کہ 25دسمبر 1876 اُن کا یوم پیدائش ہے۔ اِس بار مجھے قائداعظم اِس لئے بھی زیادہ یاد آئے کہ اُن کے بعض کالے کوٹوں والے ہم پیشہ ’’وارثین‘‘ نے اپنے بابائے قوم کے اُن اصولوں کو بُری طرح پامال کیا جن کی وہ عمر بھر زبانی اور عملی تلقین کرتے رہے۔ وہ زندگی بھر نظم و ضبط، صبر اور قانون کی حکمرانی کا درس دیتے رہے لیکن افسوس کہ ہم اُن کی فکری رہنمائی سے روگردانی کرکے باطنی طور پر بحیثیت ِ قوم کمزور اور منقسم ہو رہے ہیں۔ صوبائیت اور علاقائیت کے زہر کا تدارک کرنے کے بجائے ہم گروہی تصادم کی راہ اختیار کررہے ہیں۔ لاقانونیت کے اس طوفانِ بدتمیزی کو اگر سختی سے نہ روکا گیا تو اِس رجحان اور روش کی حوصلہ افزائی ہوگی جس کے نتائج تکلیف دہ ہوں گے۔ دسمبر کے حوالے سے قائداعظم کی سیاسی زندگی کے چند واقعات درج ذیل ہیں کیونکہ کالم کا دامن نہایت محدود ہوتا ہے۔ یہ واقعات میں نے میاں محمد افضل کی اعلیٰ درجے کی کتاب ’’میرِکارواں‘‘ سے لئے ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ آج پھر ہمیں ایک ایسے ہی قائد کی ضرورت ہے۔

قائداعظم کی وفات پر مشہور برطانوی فلسفی برٹرینڈرسل نے درست کہا تھا کہ ’’ہندوستان کی پوری تاریخ میں کسی کو وہ محبوبیت حاصل نہیں ہو سکی جو ایم اے جناح کو ملی ہے‘‘۔ اسی محبوبیت کے سبب سے تھا کہ قائداعظم واحد لیڈر تھے جو اپنی قوم اور اپنے پیروکاروں کو اُن کی غلطیوں اور ناپسندیدہ باتوں پر ڈانٹ سکتے تھے، سرزنش کر سکتے تھے۔ 7اگست 1947کو قائداعظم دہلی سے کراچی پہنچے۔ جب اُن کا طیارہ رن وے پر رکا تو استقبال کرنے والے لوگوں کا ہجوم تمام رکاوٹیں پامال کرتا ہوا طیارے کی طرف بڑھنے لگا اور وہاں ایک بھگدڑ سی مچ گئی۔ قائداعظم یہ منظر دیکھ کر جہاز کے رن وے پر کھڑے ہو گئے اور اپنی چھتری لہرانے لگے۔ اُن کا یہ تادیبی اشارہ (سرزنش کا انداز) نیچے ہجوم کو سمجھ میں آگیا اور چند ہی لمحوں میں لوگ واپس اپنی جگہ پر چلے گئے، تب قائداعظم جہاز سے نیچے تشریف لائے۔ قائداعظم 1941میں پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پاکستان سیشن میں شرکت کیلئے لاہور تشریف لائے، جب اُن کی ٹرین ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو اُن کے خیر مقدم کیلئے آئے ہوئے ہزاروں نوجوانوں نے ڈسپلن کو خیر باد کہہ کر اُن کے ڈبے کی طرف دوڑ لگا دی۔ ہر شخص کی کوشش تھی کہ وہی اُن کے ڈبے کے دروازے تک سب سے پہلے پہنچے۔ قائداعظم نے یہ ہڑبونگ دیکھ کر باہر آنے سے انکار کردیا اور اپنے ڈبے کے دروازے پر آ کر لوگوں کو سرزنش کے انداز میں کہا ’’جب تک تم سب لوگ ایک قطار میں نہ کھڑے ہو جائو گے میں ٹرین سے نیچے نہیں اتروں گا‘‘۔ قائداعظم کی اس تلقین کا مجمع پر صورِ اسرافیل کی طرح اثر ہوا اور سب لوگ پلیٹ فارم پر قطار میں سمٹ کر کھڑے ہو گئے۔ تب قائداعظم ٹرین سے باہر آئے۔

مزید پڑھیں:  قلت اور کثرت کا فائن آرٹ- وسعت اللہ خان

نومبر 1942میں قائداعظم علی گڑھ تشریف لے گئے۔ ریلوے اسٹیشن پر اُن کا جس شان سے استقبال ہوا ویسا کسی شہنشاہ کو بھی نصیب نہ ہوا ہوگا۔ گویا سارا شہر ہی ریلوے اسٹیشن پر امڈ آیا تھا۔ ریلوے اسٹیشن سے علی گڑھ یونیورسٹی جانے کیلئے ایک شاندار بگھی اُن کی سواری کیلئے لائی گئی تھی تو طلبہ کے جوش، محبت اور عقیدت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بگھی کے گھوڑے کھول دیے اور بگھی کو خود کھینچتے ہوئے اس مقام تک لے گئے جہاں قائداعظم کے قیام کا بندوبست کیا گیا تھا۔

دہلی گیٹ لاہور کے باہر باغ میں اُنہوں نے ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کیا۔ ہجوم اتنا بڑا تھا کہ خطاب کے بعد اُن کیلئے کار تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔ وہ کھڑے سگریٹ پیتے رہے جبکہ جلسے کے منتظمین اس دوران لوگوں کو ہٹنے کی اپیلیں کر رہے تھے۔ لوگوں پر اُن اپیلوں کا کوئی اثر نہ ہوا تو قائداعظم نے جس ہاتھ کی انگلیوں میں سگریٹ پکڑا ہوا تھا اسے بلند کرکے کہا کہ ’’لوگوں سے کہو کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ ہٹ جائیں‘‘۔ اس پر ایک شخص نے لائوڈ اسپیکر پر لوگوں سے اردو میں کہا ’’قائداعظم فرماتے ہیں کہ میں آپ کو حکم دیتا ہوں‘‘۔ جملہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ تابعدار سپاہیوں کی طرح پورا ہجوم یکلخت ایک طرف ہٹ گیا۔

1943میں قائداعظم نے دہلی میں ایک تاریخی اور عظیم الشان جلسے سے خطاب کیا تھا۔ قائداعظم جب جلسہ گاہ میں پہنچے تو لاکھوں کا مجمع منتظمین کے کنٹرول میں نہیں رہا تھا۔ تاہم جیسے ہی اعلان ہوا کہ قائداعظم تشریف لے آئے ہیں ’’مجمع خود ہی دو حصوں میں منقسم ہو گیا اور شامیانے کے داخلے سے لے کر پنڈال تک قائد کے جانے کیلئے راستہ بن گیا‘‘۔ قائد ڈائس پر گئے تو زندہ باد کے نعروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا، قائداعظم نے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا ہی تھا کہ مجمع خاموش ہوگیا۔

مزید پڑھیں:  تاریخ کو درست ہونے دیں- سہیل سانگی

مقبول تو بہت لیڈر ہو جاتے ہیں، محبوبیت خال خال ہی کسی کے حصے میں آتی ہے۔ یہ ایک پُراسرار سا معاملہ ہے جب تک مخلوق کے دل میں خود خالق یہ بات نہ ڈالے وہ کسی لیڈر کو اس طرح اپنی محبت و عقیدت کا مرکز و محور نہیں بناتی۔ محبوبیت کے پسِ پردہ عوامل پُراسرار اور روحانی ہوا کرتے ہیں، کوئی مانے خواہ نہ مانے! طورخم پر کھڑے افغان سنتری کو کس بات نے مجبور کیا تھا کہ دوڑ کر قائداعظم سے مصافحہ کرے جبکہ قائداعظم اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائے تھے۔ جب اس کے مصافحہ کی تصویر اخباروں میں شائع ہوئی تو افغانستان کی حکومت نے اسے برطرف کردیا کیونکہ اسے حکم یہ دیا گیا تھا کہ جب قائداعظم بارڈر پر آئیں تو وہ اپنا منہ دوسری طرف کرکے کھڑا رہے۔

اُن کی محبوبیت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جب تقسیم کے موقع پر خونریز فسادات اور تباہی کا سلسلہ شروع ہوا اور لاکھوں کروڑوں بےگھر، بےدر اور برباد حال مسلمان گرتے پڑتے پاکستان کی سرزمین پر پہنچے تب بھی اُن کی زبان پر قائداعظم کے بارے میں کوئی شکوہ نہ تھا۔ کئی بیمار اور شدید زخمی مہاجر پاکستان کی سرحد عبور کرتے ہی مر گئے اور مرتے وقت وہ قائداعظم زندہ باد، پاکستان زندہ باد پکار رہے تھے۔

موجودہ ہجومِ لیڈران میں ہے کوئی ایسا جو اشارہ کرے تو شور مچاتا انبوہ ایک دم خاموش ہو جائے، ہے کوئی ایسا جو انگلی اٹھائے تو ہم قانون کو ہاتھ میں لینا چھوڑ دیں اور مؤدب ہو جائیں۔


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں