آئین طاقتور ہےیا کوئی ادارہ- عطاء الرحمٰن

مضمون شئیر کریں:

یکے بعد دیگرے دو عدالتی فیصلے آئے ہیں جنہیں اگر روح اور الفاظ کا جامہ پہنا دیا گیا تو امکان غالب ہے پاکستان کی تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیں گے اور وہ تمام تنازعات جو گزشتہ 60، 70 برسوں سے سیاسیات ملکی کو گھن کی طرح کھاتے چلے آئے ہیں، ان کے خاتمے کا آغاز ہو جائے گا… ان تنازعات نے ہمارے ملک کے اندر کسی نظام سیاست کو پنپنے نہ چلنے دیا… جمہوریت کسی کام آئی نہ آمریت کسی بڑے معاملے کو سلجھانے کے قابل ہوئی… جمہوریت کو شکایت رہی اسے چلنے نہیں دیا گیا، ہمیشہ لولی لنگڑی رہی… کسی دور میں پورے نتائج دکھا نہ پائی… آمریت کے ساتھ مسئلہ یہ رہا ڈنڈے یا صحیح تر الفاظ میں فوجی طاقت کے بل بوتے پر قائم ہوتی تھی… جواز سے محروم رہتی تھی… اس خلا کو پورا کرنے کے لیے بیرونی طاقتووں کی سرپرستی حاصل کرتی تھی… آٹھ دس دس سال گزار لینے کے بعد ملک کا انجر پنجر ایک کر کے رکھ دیتی تھی… چند مرتبہ درمیان کا راستہ نکالنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن آمریت اور جمہوریت کا کبھی ملاپ نہ ہو سکا… دونوں اپنے مزاج اور فطرت کے حوالے سے شیر و شکر ہونے کے لیے تیار نہیں تھے… آگ اور پانی کا ملاپ ہو بھی نہیں سکتا تھا لیکن ہم نے 70 سال اسی مخمصے میں گزار دیئے کہ دونوں میں سے کونسا نظام ہمارے لیے بہتر ہو سکتا ہے اور اگر ان کا ملغوبہ تیار کر لیا جائے تو اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہوں گے… جمہوریت سے اس ملک کا خمیر اٹھا… بانیٔ مملکت نے ساری جدوجہد آئینی راستے پر چل کر کی… 1945-46ء کے انتخابات میں اگر برصغیر کے مسلمان کھل کر پاکستان کے حق میں ووٹ نہ ڈالٹے تو اس کے قیام کی اتنی جلد نوبت نہ آتی… اس کے برعکس آمریت ہمیشہ غیر نمائندہ لیکن طاقتور عناصر نے بیرونی طاقتوں کی اشیر باد حاصل کر کے اوپر سے مسلط کی… اس نے جب اور جیسا بھی نظام قائم کیا اس کی جڑیں عوام میں نہیں پائی جاتی تھیں… ایک ادارے کی جس کے طاقتور اور منظم ہونے میں کوئی شبہ نہ تھا بالادستی قائم ہو جاتی تھی… باہر کی دنیا اس کا خیر مقدم کرتی…یہ ملک کو ان کی فرنٹ لائن سٹیٹ بنانے میں دیر نہ لگاتا… آمر وقت پر اس کے خزانوں کا منہ کھل جاتا… وہ ڈالروں کی چکا چوند پیدا کر کے اور خارجی ذرائع سے کچھ اسلحہ حاصل کر کے ایک مرتبہ تو تفوق قائم کر دیتا لیکن زمین پر پاؤں نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ اندر سے کمزور رہتا اور عوامی قوت کا ایک جھونکا بھی برداشت نہ کر پاتا… حاصل اب تک یہ ہوا ہے بھارت کے ساتھ ہم نے 1965ء سے لے کر اب تک ہر جنگ تقریباً ہاری اور بیرونی طاقتوں کے محاربے جو ہم لڑتے رہے ان میں بڑا کمال دکھایا… یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں اسی کشمکش میں آدھے سے زیادہ ملک گنوایا اور بقیہ کے اندر اس وقت انارکی نہیں تو اس سے ملتی جلتی صورت حال ہے … معیشت کبھی سنبھل نہ پائی اور پیروں پر کھڑی نہ ہو سکی… تازہ ترین صورت حال یہ ہے نئی حکومت نے سعودی عرب جیسے دوست سے پانچ بلین ڈالر کی امداد طلب کی اور وسیع المدتی ادائیگی کی شرط پر ادھار تیل خریدا… بدلے میں اس نے ہمارے وزیراعظم کو اس طرح دبوچ کر رکھ دیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی برائے نام آزادی دم توڑتی نظر آ رہی ہے … شاہان سعود کی ناراضی مول لے کر کوالالمپور میں منعقد ہونے والی اس عالمی مسلم کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکتے جس کا ابھی دو ہفتے قبل بڑے زور شور کے ساتھ وعدہ اور اعلان کیا گیا تھا… پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اتنا برا وقت شاید کبھی نہ آ یا ہو…

مزید پڑھیں:  ایسی جمہوریت کا ہم اچار بھی نہ ڈالیں- محمد بلال غوری

جن دو عدالتی فیصلوں کی جانب ان سطور کے آغاز میں اشارہ کیا گیا وہ لمحۂ موجود کے اندر ملک میں بہت بڑے مباحثے کا موضوع بنے ہوئے ہیں کیونکہ اگر ان پر صدق دل سے عمل کر لیا جاتا ہے تو ہمارے جسد سیاسی کو لاحق کئی امراض دور ہو جائیں گے… یہ بھی طے ہو جائے گا آئین طاقتور یا کوئی خاص ادارہ یا اس کا سربراہ پہلا فیصلہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں ہے … کیا اس نہایت درجہ نازک اور مخصوص پاکستانی حالات میں مؤثر تر اختیارات کے مالک عہدیدار کی مدت ملازمت میں توسیع کی جا سکتی ہے یا نہیں… عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کی متعلقہ شق نمبر 243 اس بارے میں وضاحت کے ساتھ کچھ نہیں بتاتی اور جو دوسرے قوانین مثلاً آرمی ایکٹ وغیرہ ہیں ان کے اندر بھی صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا کہ وزیراعظم ایک فوجی سربراہ کو اس کے ریٹائر ہو جانے کے بعد دوبارہ اسی عہدے پر متعین کر سکتا ہے یا نہیں لہٰذا منتخب پارلیمان کو چھ مہینے کے اندر یہ قضیہ حل کر لینا چاہیے تا کہ آئندہ اس بارے میں کوئی خلجان باقی نہ رہے… اس کے لیے آرٹیکل 243میں ضروری ترمیم کرنی ہے یا قانون سازی سے حل نکل آئے گا یہ فیصلہ بھی پارلیمنٹ کو کرنا ہے … ملک کا سب سے با اختیار ادارہ ہونے کے سبب یہ ذمہ داری پارلیمنٹ کے کندھوں پر آن پڑی ہے … اگر اس کے ارکان باہمی سیاسی اختلافات سے بالا ہو کر طے کر لیتے ہیں کہ آئندہ وزیراعظم ایک ریٹائرڈ آرمی چیف کو دوبارہ متعین کرنے کا مجاز ہو گا یا نہیں… اگر ہو گا تو کن اختیارات کے تحت اور اگر نہیں تو آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے… موجودہ دنیا کے دیگر جمہوری ممالک کے اندر رائج طریقہ یہ ہے کہ جو بھی سینئر ترین جرنیل ہو وہ رخصت ہونے والے کی جگہ سنبھال لیتا ہے خواہ اس کی مدت میں دو دن باقی ہوں اور یا اور پانچ سال کی مہلت مل رہی ہو… عہدہ طے شدہ اور خود کار طریق کار کے تحت سینئر ترین فرد کے پاس چلا جائے گا جیسا کہ امریکہ، برطانیہ اور بھارت وغیرہ میں ہوتا ہے یا جس طریقے سے ہمارے یہاں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹس کے چیف جسٹسز کا تعین کیاجاتا ہے … اگر اسی طریق کار کو ہم فوج کے اندر بھی اپنا لیں تو اس ضمن میں پیدا ہونے والے بے شمار سوالات ختم ہو کر رہ جائیں، تنازعات سرے سے جنم نہ لیں اور یہ سوال کبھی نہ پیدا ہو اگر ملک فیروز خان نون دباؤ میں آ کر کمانڈر انچیف ایوب خان کو توسیع نہ دیتے تو 1958ء کا پہلا مارشل لاء نہ لگتا… جمہوریت کی گاڑی رواں دواں ہوتی اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حالات بھی نہ پیدا ہوتے… یہی کام بقیہ ڈکٹیٹروں کے ادوار میں ہوا، جس کی وجہ سے جمہوری عمل کو گرہن لگتا رہا… لہٰذا موقع ہے کہ ہماری پارلیمنٹ اس مسئلے کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل نکال کر قوم کی گاڑی کو آگے کی جانب رواں کرنے میں مدد دے… آرمی چیف کی مدت ملازمت اگر تین سال کی ہے تو وہ تین سال ہی رہے… اس کے خاتمے پر نئے اور اگلے سینئر فرد کو خدمات سر انجام دینے کاموقع دیا جائے… نہ قیاس آرائیاں جنم لیں نہ اس طرح کی تفریق پیدا ہو جس کا آج کل بہت چرچا ہے … اگرچہ اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا میں کھل کر سامنے نہیں آ رہی لیکن سوشل میڈیا نے اسے کسی سے چھپا نہیں رہنے دیا… لہٰذا اگراگلے چھ ماہ میں ہماری پارلیمنٹ اس مسئلہ کا پائیدار حل نکال لیتی ہے تو بلاشبہ ایک تاریخ رقم کرے گی… اس سے غیر آئینی مداخلت کے کئی دروازے بند ہو جائیں گے اور یہ بھی ہمیشہ کے لیے طے ہو جائے گا کہ کوئی شخصیت کسی کام کے لیے ناگزیر نہیں ہوتی، اصل چیز ادارہ ہوتا ہے … ہمیں ہر عالم میں اپنے اداروں کے استحکام اور ان کی داخلی طاقت میں اضافے کی فکر کرنی چاہیے تا کہ وہ اپنی اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر ریاستی ذمہ داریوں سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہو سکیں…

مزید پڑھیں:  گرہ کھل چکی ہے- جاوید چوہدری

دوسرا فیصلہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو آئین توڑنے کی سزا کے طور پر تین کے مقابلے میں دو ججوں کی اکثریت کے ساتھ سزائے موت کے اعلان کی شکل میں سامنے آ یا ہے … تیسرے جج صاحب نے بھی اسے معاف نہیں کیا… مجرم ٹھہرایا ہے … غداری کا مرتکب قرار دیا ہے لیکن سزا عمر قید کی تجویز کی ہے … یہ کہنے کی ضرورت نہیں پاکستان کی تاریخ کے نہایت درجہ جرأتمندانہ فیصلوں میں سے ہے … آئین مملکت کسی بھی جمہوری ریاست کی سب سے مقدس دستاویز ہوتا ہے … ریاست کے تمام امور اس کے طے کردہ دائرہ کار کے اندر رہ کر طے کیے جاتے ہیں… اگر یہ برقرار نہ رہے یا اسے اپاہج کر کے رکھ دیا جائے اور اس کی جگہ آمر وقت کے من مرضی کے اصولوں کو جنہیں ہمارے سیاسی روزمرہ میں پی سی او کا نام دیا جاتا ہے اطلاق کر دیا جائے تو ریاست ایک بہتے دریا کی جائے جوہڑ کی شکل اختیار کر لیتی ہے … چاہے اس کے پانی کی سطح پر کتنے ی چاندی کے ورق لگا کر چمک پیدا کرنے کی کوشش کی جائے… ہمارے ملک میں یہ ناپسندیدہ ترین کام ایک نہیں پانچ مرتبہ ہوا ہے … پرویز مشرف نے اس کا ارتکاب دو مرتبہ یعنی 12 اکتوبر 1999ء اور 3 نومبر 2007ء کو کیا… اس بارے میں دو اب رائے نہیں پائی جاتیں اگر ایوب اور یحییٰ کے مارشل لاء نہ لگتے اور ہم سر زمین بے آئین کی شکل نہ اختیار کرتے تو بھارت جیسے دشمن کے ہاتھوں مشرقی پاکستان کی علیحدگی عمل میں نہ آتی… جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی یکے بعد دیگرے فوجی حکمرانی نے بھی جو ملا کر 19 سالوں کو محیط ہے ہمیں بیرونی طاقتوں کا محتاج بنانے اور ریاستی اداروں کو کمزور سے کمزور تر کرنے میں کسر باقی نہ رہنے دی… ہماری حاکمیت اعلیٰ جو کسی بھی قوم کی متاع عزیز ہے بری طرح مجروح ہوئی… 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی اور آئین کو معطل کرنے کے کام میں دوسرے امور کے علاوہ عدلیہ جیسے ریاست کے بہت بڑے ستون کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا گیا… اب اس جرم کی پاداش میں جنرل مشرف کو جس سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا ہے وہ آئین کے اندر لکھی ہوئی ہے … اگرچہ اس فیصلے کو اپیل کے مراحل سے گزرنا ہے لیکن اگر آگے چل کر اس پر صحیح معنوں میں عمل درآمد ہو جاتا ہے جو بلاشبہ ہمارے ملک کے مخصوص حالات کے اندر ہمالیہ کی چوٹی کو سر کرنے کے مترادف ہو گا تو ہم اپنی تاریخ کے نئے اور روشن باب کا آغاز کر دیں گے… جمہوریت کی جڑیں مضبوط تر ہو جائیں گی اور اس کے پودے کو تناور اور پھل دار درخت بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی… یہی وجہ ہے کہ فیصلے کے سامنے آتے ہی عوام کی نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کی جانب سے اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے … مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی جن کی مل کر ہماری پارلیمنٹ میں بھاری تعداد بنتی ہے ، اس پر خوش ہیں… اگرچہ تحریک انصاف کو ایک بڑی پارلیمانی جماعت ہونے کے باوجود سخت تشویش لاحق ہوئی ہے کیونکہ اسے اپنا اقتدار ہلتا ہوا نظر آ رہا ہے … ویسے بھی عمران خان کی کابینہ میں شامل 29 میں سے 15 کا تعلق مشرف کے ساتھ رہا ہے جن میں موجودہ وزیر قانون، اٹارنی جنرل، وزیر ریلوے وزیر داخلہ اور مشیر برائے اطلاعات کے ساتھ وزیر برائے امور سائنسی و ٹیکنالوجی جیسی بھاری بھر کم شخصیت شامل ہیں… تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تین نومبر 2007ء کو جب جنرل مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی اور آئین کو معطل کیا تو اس کی کھلے الفاظ میں مذمت کرنے اور فوجی ڈکٹیٹر پر آئین کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کے حق میں عمران خان نے بھی پر زور آواز بلند کی تھی… جس کا مطلب یہ ہے عوام کی نمائندگی کرنے والی تمام قوتیں اصولی یا عملی طور پر فیصلے کے ساتھ کھڑی ہیں… اگرچہ پرویز مشرف کے اپنے ادارے کی جانب سے اس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے … یہ ادارہ پرویز مشرف کا نہیں قوم کا ہے … اس نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے اس کو پروان چڑھایا ہے … اس کے بہادر سپوت بلاشبہ وطن کی آن اور سلامتی کی خاطر مر مٹنے کو تیار رہتے ہیں… پرویز مشرف 12 سال قبل اس کی ملازمت سے ریٹائر ہو گئے تھے… اب ان کی حیثیت ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی ہے … یہ جماعت جیسی بھی ہے اس کا اور اس کے سربراہ کا فوج جیسے محترم ادارے سے کوئی تعلق نہیں… راقم کے خیال میں زیادہ مناسب ہوتا کہ اگر اپنے ایک سابق عہدیدار کا تحفظ کرنا اتنا ہی ضروری تھا تو نرم تر الفاظ میں اپنے تحفظات کا اظہار کر کے کہا جاتا کہ معاملہ ابھی طے نہیں ہوا… سزا کے خلاف اعلیٰ ترین عدالت یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کی جانی باقی ہے … پرویز مشرف کو آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے وہاں اپنے بھرپور دفاع کا موقع ملنا چاہیے… اس صورت میں سامنے آنے والا ردعمل تلخی میں اضافے کا باعث نہ بنتا… اب بھی بہتر صورت یہی ہو گی کہ اپیل کا واضح اور قطعی عدالتی راستہ اختیار کیا جائے اور اگر جنرل مشرف اور اس کے حامی سمجھتے ہیں وہ اتنا قصور وار نہیں جتنا قرار دیا گیا ہے تو سب سے بڑی عدالت میں کھلے طریقے سے اس کا مقدمہ لڑا جائے نہ کہ کوئی بیان قوم کی تشویش میں اضافے کا باعث ہو اور نامعلوم خدشات کو جنم دے…


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں