کھوجی کی بھی تو مجبوریاں ہوتی ہیں! آمنہ مفتی

مضمون شئیر کریں:

پرانے وقتوں میں، پنجاب میں مویشی چوری عام تھی۔ پنجاب کے دریا اتھرے ہوئے تھے اور ابھی ان پر کیمیائی فضلے کا عذاب نازل نہ ہوا تھا نہ ان پر بندہی باندھے گئے تھے اور نہ ہی ان کا بٹوارا ہوا تھا۔

ان اتھرے ہوئے دریاؤں کے کنارے دلدلی جنگل تھے اور سرکنڈوں کے جھنڈ۔ کچے کے ان علاقوں میں ڈاکووں کی مملکتیں آباد تھیں کسی کی مجال نہ تھی کہ وہاں پر بھی مار سکتا۔

پنجاب میں انگریز آیا تو مویشی چوروں میں ذرا تشویش دوڑی مگر کچھ ہی عرصے میں اس کا توڑ بھی ڈھونڈ لیا گیا۔

اب رسہ گیروں کو نئے سر پرست مل گئے۔ وہ سرپرست جو انگریز سرکار کے دوست تھے۔ رسہ گیروں کے سرپرست پھلتے پھولتے رہے اور ایک زمانہ ایسا آیا کہ کھوجی جب کھرا نکالتے تھے تو کبھی کبھار یوں بھی ہو جاتا تھا کہ چوری شدہ جانور کا ہر قدم ایک بظاہر بہت معزز اور مستحکم یعنی اسٹیبلشڈ فرد کے ڈیرے کی طرف جاتا ہوا نظر آتا تھا۔

جن لوگوں نے دیہات کے کھوجیوں کی کارروائی دیکھ رکھی ہے وہ جانتے ہیں کہ کھوجی کے ساتھ ساتھ پورے گاوں کے آوارہ کتے، بچے، حقے اٹھائے فارغ بڈھے، کپڑے دھوتی عورتیں، بہوؤں سے تنگ بدمزاج بڑھیاں حتیٰ کہ کوّوں کے جھنڈ تک شور مچاتے، چہ میگوئیاں کرتے چلے آتے ہیں۔

ایسے میں اگر کھرا کسی ایسے گھر کی طرف نکل جائے جس کی دیوار کے سائے میں بھی کوئی لیٹنے کی جرات نہ کرے تو کھوجی کو اپنی جان کی پڑ جاتی تھی۔ جھوٹ بولتا تو روزی روٹی جاتی، سچ بولتا تو جان جاتی۔

مزید پڑھیں:  آپ جنرل مشرف کا کمال دیکھیے- جاوید چوہدری

اس مصیبت کا حل یہ ڈھونڈا گیا کہ ایسے موقعے پر کھوجی کو اچانک پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی اور وہ جائے وقوعہ سے غائب ہو جاتا۔ دو ایک روز میں معاملہ ٹھنڈا ہوتا تو چوری شدہ جانور یا تو سیاسی مخالف کے ڈیرے سے برآمد ہوتا یا کبھی بھی اس کی کوئی خبر نہ ملتی۔

ایسے معاملات پر دیہاتوں میں ایسی ایسی چہ میگوئیاں اٹھتیں، وہ وہ افواہیں اڑتیں کہ بس سنا ہی کیجیے۔ مگر کھرا کدھر جا رہا تھا یہ کوئی نہ بتاتا۔ پوچھ تاچھ پر گاوں کے بڈھے سوچ میں کھو جاتے، بڑھیاں نیم بہری ہو جاتیں اور کھوجی سے زیادہ سوالات کیے جاتے تو وہ پھر سے لوٹا لے کر کماد کے کھیتوں کا رخ کرتا جہاں سے کبھی تو وہ زندہ برآمد ہو جاتا اور اگر بڑبولا ہوتا تو اس کی لاش ہی واپس آتی۔

خیر یہ تو پرانے قصے ہیں۔ آج کل ایک نئی خبر اڑ رہی ہے۔ خبر کا یہ ہے کہ اس کی فطرت پرندوں والی ہے۔ آپ جتنا چاہیں، اسے دبا لیں، پنجروں میں بند کر لیں، پر قینچ کر دیں، سدھا لیں مگر جوں ہی نظر چوکے گی، خبر پھر سے اڑ کے چوک میں جا کھڑی ہو گی۔

خبر اڑی کہ انگلینڈ سے 190 کروڑ پاؤنڈ کی رقم پاکستان بھیجی جا رہی ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو ایک ایسی عمارت کی خریداری کو قانونی کرنے کے لیے بطور ہرجانہ دی جا رہی ہے جس کی خریداری کی کوئی منی ٹریل نہیں۔ سادہ لوح عوام، بغلیں بجاتے، شور مچاتے، حقے ہاتھ میں پکڑے، خبر کے ساتھ ہو لیے۔ سب کو پوری امید تھی کہ یہ پیسہ میاں نواز شریف کی جیب سے نکلا ہو گا۔ امید ہمیں بھی یہی تھی۔

مزید پڑھیں:  کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو- وسعت اللہ خان

بطور اپوزیشن مسلم لیگ کی بری کارکردگی پر ان سے خفا ہونے کی وجہ سے بھی اور لوٹی ہوئی مبینہ قومی دولت کے برآمد ہو جانے پر کوّوں کی طرح شور مچانے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔ مگر پھر اچانک اس کیس کا کھرا، بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی طرف مڑ گیا۔ سب پر جیسے اوس سی پڑ گئی کیونکہ کرپٹوں کی فہرست میں ملک صاحب کا نام تو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

ملک ریاض اچانک کہاں سے آئے؟ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا؟ ان کا کاروبار، بیس بائیس سال میں ترقی کر کے ان بزنس مینوں سے کہیں آگے کیوں نکل گیا جو سالہا سال سے یہاں کام کر رہے ہیں؟

آدھی ادھوری ان کہی کہانیاں، کسی انٹرویو کے ٹکڑے، کسی کہانی کے حصے، کانوں میں پڑتے رہے۔ تحریک انصاف کی جدوجہد کے بیس سال اور ملک ریاض کی ترقی کے بیس سال ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

آج ملک ریاض ملک کے وہ بزنس مین ہیں، جو اپنا پیسہ سمیٹ لیں تو ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ اس ملک ریاض کے پاس انگلینڈ میں خریدی جائیداد کے لیے دیے گئے پیسے کا کوئی حساب نہ تھا کہ یہ کہاں سے آیا؟ یہ پیسہ ملک سے باہر کیسے گیا؟ یہ پیسہ کس کا ہے؟ احتساب کی حامی حکومت اس معاملے پر چپ کیوں ہو گئی؟ ان پیسوں کی منی ٹریل کیوں نہ مانگی گئی؟ سب کے سناٹے کیوں بیت گئے؟

کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ تین دسمبر کی ان کیمرہ میٹنگ میں ان پیسوں پر خاموش رہنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں:  عہدِ کورونا میں سیاست: سہیل وڑائچ

ہم احمق لوگ ہیں، یاداشت بھی کمزور ہے اور جو جس طرف لگا دے لگ جاتے ہیں۔ مچھلیوں کی یاداشت تین سیکنڈ کی ہوتی ہے، ہم 72 گھنٹے سے زیادہ کسی معاملے کے پیچھے نہیں پھر سکتے۔ یہ بات بھی دب دبا جائے گی۔ نہ بھی دبی تو کیا ہو گا؟

ویسے لگتا یہی ہے کہ کھرا کسی بڑی حویلی کی طرف نکل آیا ہے اور کھوجی لوٹا لے کر کماد کی طرف دوڑا ہے۔ کھوجی بھی تو آخر آپ کی ہماری طرح گوشت پوست کا انسان ہی ہوتا ہے نا، کھوجی کی بھی تو مجبوریاں ہوتی ہیں۔ خود کو کھوجی کے جوتوں میں کھڑا کر کے سوچیں، بہت ممکن ہے آپ بھی لوٹا لے کر گنے کے کھیت کا رخ کر لیں۔ کھرا نکالنے والوں کی خیر ہو۔


مضمون شئیر کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں